چین میرے دورِ صدارت میں تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ تائیوان کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کریں گے۔
نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ تائیوان کے معاملے پر چین کا اپنا مؤقف ہے اور شی جن پنگ تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتے ہیں، تاہم ان کے خیال میں چینی صدر ان کے دورِ حکومت میں کسی فوجی اقدام کی طرف نہیں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تائیوان کے حوالے سے چین کیا فیصلہ کرتا ہے یہ بیجنگ کی قیادت پر منحصر ہے، لیکن امریکا تائیوان کے خلاف کسی بھی کارروائی پر خوش نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف فوجی قدم اٹھانے سے گریز کرے گا۔
روس کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ اگر امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیا جائے، تاہم مستقبل میں کسی نئے جوہری معاہدے میں چین کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ 5 فروری کو اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل تائیوان کے نے کہا
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔