یکم فروری سے ای بز پورٹل کی تمام سہولیات آن لائن دستیاب ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
سٹی42: چیف سیکرٹری پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ یکم فروری سے ای بز پورٹل کی تمام سہولیات صرف آن لائن دستیاب ہوں گی، جس کے بعد درخواست گزاروں کو کسی بھی دفتری کام کے لیے دفتر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اجلاس میں پی آئی ٹی بی کو ہدایت دی گئی کہ مارچ تک ای بز پورٹل پر فراہم کی جانے والی خدمات کی تعداد 310 تک بڑھائی جائے۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ ای بز اور ای فاس کی کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے عوام کو دفتری چکروں سے نجات ملے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ای بز پورٹل پر فی الحال 15 محکموں کی جانب سے 210 خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، اور اب فیلڈ دفاتر اور ذیلی اداروں کو بھی ای فاس پر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
لاہور میں 20 سال بعد بسنت، شہر کو تین زونز میں تقسیم کر کے سکیورٹی انتظامات سخت
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔