ٹرمپ کا ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خود ساختہ ولی عہد اور جلا وطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات کو مسترد کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن اس مرحلے پر ایران میں ممکنہ حکومتی تبدیلی کی صورت میں کسی ایک رہنما کی حمایت کے لیے تیار نہیں، جبکہ ملک بھر میں حکومت مخالف احتجاج مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں حکومت مخالف احتجاج میں شدت، تہران میں انٹرنیٹ اور فون سروس معطل
الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں رضا پہلوی کو ’اچھا انسان‘ قرار دیا تاہم کہا کہ بطور امریکی صدر ان سے ملاقات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہتر ہے کہ دیکھا جائے کہ ایران میں حالات کس سمت جاتے ہیں اور کون سا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے۔
دوسری جانب ایران میں مہنگائی، معاشی بحران اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے باعث شروع ہونے والے احتجاج اب وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں میں بدل چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے احتجاج کو دبانے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے، جبکہ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران ولی عہد ٹرمپ رضا پہلوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران ولی عہد رضا پہلوی
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔