ٹی 20 ورلڈ کپ: بھارتی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ، اسٹار کھلاڑی کی فٹنس غیر یقینی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا ہے جب اس کے اہم بیٹر تلک ورما نیوزی لینڈ کے خلاف جاری پانچ میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے ابتدائی تین میچز سے باہر ہو گئے ہیں، جبکہ باقی میچز اور ورلڈکپ میں ان کی شرکت بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس پیش رفت نے بھارتی ٹیم مینجمنٹ اور شائقینِ کرکٹ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ تلک ورما حالیہ عرصے میں ٹیم کے قابلِ اعتماد کھلاڑیوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تلک ورما نے بدھ کے روز راجکوٹ میں ایک اہم سرجری کروائی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد کھلاڑی کی حالت تسلی بخش ہے، تاہم فوری طور پر میدان میں واپسی ممکن نہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی 3 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ان کی شرکت ممکن نہیں جب کہ باقی 2 میچز کے لیے حتمی فیصلہ ان کی فٹنس، بحالی اور دوبارہ ٹریننگ میں واپسی کے بعد کیا جائے گا۔
بی سی سی آئی کے مطابق تلک ورما نے منگل کے روز وجے ہزارے ٹرافی میں حیدرآباد کی نمائندگی کرتے ہوئے بنگال کے خلاف میچ کھیلا تھا۔ میچ کے دوران کسی نمایاں چوٹ کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم بعد میں انہیں تکلیف محسوس ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر طبی معائنہ اور اسکین کیے گئے۔ ڈاکٹروں کی مشاورت کے بعد سرجری کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مستقبل میں کسی بڑے مسئلے سے بچا جا سکے۔
بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ تلک ورما جمعرات کی صبح اسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں اور جمعہ کے روز حیدرآباد واپس روانہ ہوں گے، جہاں وہ بحالی کے عمل کا آغاز کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ان کی فٹنس بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، اسی لیے نیوزی لینڈ کے خلاف مکمل سیریز میں ان کی واپسی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ 7 فروری کو امریکا کے خلاف شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے اہم میچ میں بھی ان کی شرکت غیر یقینی قرار دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی تلک ورما کے مطابق کے خلاف کے بعد
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔