اسرائیلی اہلکار کے صومالی لینڈ دورے پر پاکستان سمیت 23 اسلامی ممالک کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستان سمیت 23 اسلامی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیلی اہلکار کے صومالی لینڈ کے غیر قانونی دورے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی اہلکار کا 6 جنوری کو صومالی لینڈ کا دورہ ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے جو صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کو براہ راست چیلنج کرتا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے یا اس کے ساتھ کسی بھی سطح پر روابط بڑھانے کی کوششیں ایک علیحدگی پسند ایجنڈے کو فروغ دیتی ہیں، جو پہلے ہی عدم استحکام اور کشیدگی کا شکار خطے میں مزید تناؤ اور بدامنی کو جنم دے سکتی ہیں۔
اسلامی ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام لازم ہے اور اسرائیل کا یہ اقدام ان بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
بیان میں صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صومالیہ کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے متعلق کسی بھی فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔ اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف افریقا کے ہارن کے خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ اسرائیل کا یہ طرزِ عمل فلسطین کے حوالے سے اس کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں وہ طویل عرصے سے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرتا چلا آ رہا ہے۔ فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد اب دیگر خطوں میں علیحدگی پسند رجحانات کی حوصلہ افزائی عالمی امن کے لیے ایک نیا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
یہ مشترکہ اعلامیہ الجزائر، بنگل دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکی، یمن اور او آئی سی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کا نوٹس لے اور صومالیہ کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کی خودمختاری اسلامی ممالک صومالی لینڈ صومالیہ کی کیا گیا ہے گیا ہے کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔