اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی، شہریوں میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی سے شہری اور ماحول دوست حلقوں میں تشویش کی لہر ہے تو دوسری طرف وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ایک بھی ماحول دوست درخت نہیں کاٹا گیا اور کاٹے گئے ایک درخت کے متبادل کے طور پر تین درخت لگائے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں چک شہزاد پارک روڈ پر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی زمین سے ماحول دوست درختوں کو بلا اجازت کاٹنے کے معاملے پر تحفظ ماحولیات ایجنسی نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو نوٹسز جاری کر دیے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی زمین سے ہاؤسنگ سوسائٹی کی لنک روڈ کے لیے 2 ایکڑ رقبے سے ماحول دوست درخت کاٹے گئے، اس حوالے سے سی ڈی اے سمیت کسی متعلقہ ادارے سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔
تحفظ ماحولیات ایجنسی نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو درخت کاٹنے پر نوٹس جاری کر دیا ہے کہ بلا اجازت ایسا کیوں کیا؟
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے این آئی ایچ کی زمین سے بغیر اجازت درخت کاٹنے کا نوٹس لیا گیا ہے۔
ترجمان ای پی اے ڈاکٹر زیغم کا کہنا ہے کسی بھی جگہ پر تعمیراتی کام کے لیے انوائرنمنٹ اسسمنٹ کروانا لازم ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک نے جیو نیوز کو بتایا ہے کہ کسی بھی گرین ایریا پر تعمیرات نہیں ہو رہیں، جس ہاؤسنگ سوسائٹی کی لنک روڈ کے لیے این آئی ایچ کی زمین سے درخت کاٹے گئے ہیں، وہ سوسائٹی اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے مطابق قانونی ہے تاہم انوائرنمنٹ اسسمنٹ نہ کروانے پر جرمانہ ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ماحول دوست کی زمین سے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔