سندھ بلڈنگ ،کے اے ای سی ایچ ایس میں خلاف ضابطہ کمرشل تعمیرات
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
آصف شیخ اور صحافتی پیکیج مافیا مل کر رہائشی پلاٹوں کو کمرشل زون میں تبدیل کر نے لگے
بلاک 2پلاٹ ،C 79بلاک 4پلاٹ B 308پر خلاف ضابطہ تعمیرات کی چھوٹ
ضلع ایسٹ میں قائم کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی پلاٹوں پر خلاف ضابطہ کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیر پر تشویش پھیل رہی ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ اور نام نہاد ’صحافتی پیکیج مافیا‘ کے درمیان گٹھ جوڑ کے باعث علاقے کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کیا جا رہا ہے ، مقامی ذرائع کے مطابق، کراچی ایڈمن سوسائٹی کے بلاک 6، 7 اور 8 میں سب سے زیادہ غیرقانونی کمرشل تعمیرات ہو رہی ہیں۔ بلاک 2 رہائشی پلاٹ نمبر C79پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر کی چھوٹ فضل نامی شخص نے حاصل کر رکھی ہے۔ جبکہ بلاک 4کے پلاٹ نمبر B308 پر بھی تعمیراتی لاقانونیت برقرار ہے ،بلاک 8 میںمتعدد پلاٹوں پر شاپنگ یونٹس تقریباً 25-30رہائشی پلاٹوں کو جزوی یا مکمل طور پر تجارتی مقاصد کے لیے تبدیل کیا جا چکا ہے ، اطلاعات کے مطابق ہر غیرقانونی کمرشل یونٹ کے لیے 5سے 10لاکھ روپے کا "معاوضہ” لیا جا رہا ہے ۔ یہ رقم "پیکیج مافیا” کے ذریعے وصول کی جاتی ہے جو بعد میں متعلقہ افسران تک پہنچائی جاتی ہے۔ کل مالیت کروڑوں روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے ۔کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں نے وزیر بلدیات سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے ،قانون کی حکمرانی قائم ہو، بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہو،شہر کی منصوبہ بندی کو برقرار رکھا جا سکے یہ صورت حال نہ صرف کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی بلکہ پورے شہر کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے ۔ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو یہ مسئلہ دیگر رہائشی علاقوں میں بھی پھیل سکتا ہے ، جس سے شہری منصوبہ بندی کا پورا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔