پنجاب اسمبلی، اسٹینڈنگ کمیٹی نے پیڈا ایکٹ 2025ء منظور کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک)پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پیڈا ایکٹ ترمیمی بل دوہزار پچیس منظور کر لیا، پیڈا ایکٹ میں ریٹائرڈ سرکاری افسران کے خلاف انکوائری سے متعلق قانون میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے ۔
پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نےپنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی بل دوہزار پچیس کی منظوری دے دی ہے۔بل کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد انکوائری دو سال میں مکمل نہ ہونے پر اب کارروائی ختم نہیں ہوگی، مجازاتھارٹی تحریری وجوہات کے ساتھ انکوائری میں توسیع کر سکے گی۔
پیڈا انکوائری اب کسی مخصوص مدت کی پابند نہیں رہے گی، ریٹائرڈ افسران کے خلاف پیڈا کارروائی کئی سال تک جاری رہ سکے گیدو سال بعد پیڈا کارروائی ختم ہونے سے متعلق قانونی سقم ختم ہوگیا۔عدالتی فیصلوں کے باعث ختم ہونے والی پیڈا کارروائیوں کے مسئلے کا حل نکال لیا گیا۔
پیڈا ترمیمی بل پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد گورنر کو بھجوایا جائے گا، گورنرپنجاب کی منظوری کے بعد پیڈا ترمیمی بل قانون بن جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔