جب تک امریکی صدر ہوں چین تائیوان پر حملہ نہیں کرےگا: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ چین میرے دورِ صدارت میں تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین تائیوان پر فوجی کارروائی نہیں کرے گا جب تک وہ امریکی صدر ہیں اور وہ خود بھی یقین رکھتے ہیں کہ چین حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ فیصلہ آخرکار چینی قیادت پر ہے لیکن ان کو امید ہے کہ چین اس اقدام سے گریز کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر چین تائیوان کی حیثیت کو تبدیل کرتا ہے تو وہ بہت ناخوش ہوں گے۔
واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اس نے بارہا کہا ہے کہ وہ گزشتہ 1979 کی امریکا چین معاہدوں کے تحت ’ایک چین‘ پالیسی پر عمل کرتا ہے لیکن اس نے طاقت کے استعمال کا اختیار کبھی نہیں چھوڑا۔
دوسری جانب امریکا تائیوان کا اہم دفاعی حامی ہے تاہم اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں اور امریکی قانون تائیوان ریلیشنز ایکٹ کے تحت امریکا کو تائیوان کو دفاعی صلاحیت فراہم کرنی ہوتی ہے
ماہرین کے مطابق چین کے فیصلے اپنے اندرونی سیاسی اور فوجی حالات پر منحصر ہیں اور صرف ایک فرد یعنی ٹرمپ کی موجودگی اس معاملے پر محدود اثر رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چین تائیوان نہیں کرے کہ چین کرے گا
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔