سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کی مانیٹرنگ شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
سندھ حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کی مانیٹرنگ شروع کردی، جس کے لیے کراچی سمیت سندھ بھر کے ریجنل دفاتر کو فعال کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کی مانیٹرنگ کیلئے ہر ڈسٹرکٹ میں تین تین اسسٹنٹ ڈائریکٹر پر مشتمل ٹیمیں تعینات کردیں۔ جس میں شامل اسپیشل سیکریٹری ہاؤسنگ وٹاؤن پلاننگ تمام بلدیاتی اداروں اور مانیٹرنگ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لینگے۔
میونسپل سروسز،جنرل اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کیلئے علیحدہ علیحدہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز مقرر کئے گئے ہیں۔
وزیر بلدیات کی ہدایت پر لوکل گورنمنٹ نے ریجنل ڈائریکٹریٹ کے افسران کو فعال کرنے افسران کی ذمہ داروں کے حوالے سے حکمنامہ بھی جاری کردیا۔
سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کے دیگر 30 اضلاع میں اصلاحاتی عمل کا آغاز محکمہ بلدیات سندھ سے کیا ہے اور اس حوالے سے محکمہ لوکل گورنمنٹ سندھ نے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے کے 30 اضلاع میں مانیٹرنگ ٹیمیں نہ صرف تشکیل دیدی ہیں بلکہ انہیں فعال بھی کردیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ہر ڈسٹرکٹ میں گریڈ17 کے تین اسسٹنٹ ڈائریکٹرز تعینات کئے گئے ہیں جن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر میونسپل سروسز صفائی ستھرائی ،فراہمی ونکاسی آب کے مسائل ،اسٹریٹ لائٹس کے مسائل کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو مانیٹر کرینگے اور عوامی مسائل کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرینگے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل لوکل کونسلز میں ایڈ منسٹریشن اور فنانشل مسائل کے حوالے سے مانیٹرنگ کا ذمہ دار ہوگا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفراسٹرکچر لوکل کونسل میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی بروقت انجام دہی ، ترقیاتی کاموں کے معیار ودیگر مسائل کے حوالے سے مانیٹرنگ کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
اس حوالے سے صوبے بھر کے ریجنل ڈائریکٹر ز کو مانیٹرنگ ٹیمیں پابندی کے ساتھ رپورٹ جمع کرائینگی جبکہ ریجنل ڈائریکٹر ز اسپیشل سیکریٹری ہائوسنگ وٹاؤن پلاننگ محمد علی شاہ کو مذکورہ مسائل اور مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹ جمع کرائیں گے۔
کراچی کے 7 ڈسٹرکٹ میں بھی مذکورہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی ٹیموں کو فعال کردیا گیا ہے۔
اس حوالے سے اسپیشل سیکریٹر ہاؤسنگ وٹائون پلاننگ سید محمد علی شاہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وزیر اعلی سندھ اور وزیر بلدیات کی ہدایت پر مانیٹرنگ ٹیموں کو فعال کیا گیا ہے جس سے وہ کام جو کہ متعلقہ اداروں کے کوآرڈنیشن نہ ہونے کے باعث التواء کا شکار اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی متاثر کررہے تھے اسے دور کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف ڈسٹرکٹ میں وہ خود بھی اچانک دورے کررہے ہیں اور گزشتہ دنوں ضلع ساؤتھ، ضلع شرقی کے دورے کرکے صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مانیٹرنگ ٹیمیں پہلے بھی تھیں تاہم انہیں فعال کرکے فیلڈ میں لایا گیا ہے اور انہیں مختلف ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں جس کے اچھے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلدیاتی اداروں کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھ حکومت نے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ میں کو فعال گیا ہے
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل