وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک ہوتا ہے، 2018 سے 2025 تک سب کو این ایف سی کا شیئر مل رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا کو نہیں۔

کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق سے ہمیں ہمارے حصے کے پیسے نہیں دیے جاتے، خیبر پختونخوا سب سے سستی بجلی بنا رہا ہے، سستی بجلی سے پورے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ پنجاب بھی گیا لیکن وہاں ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں ہوا، لاہور میں ہم جہاں کھانا کھانے جاتے تھے وہ مارکیٹ بند ہوجاتی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ ایک وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے

سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ سندھ میں اب تک تو بے نظیر اور ذوالفقار بھٹو کی حکومت نظر آرہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ خیبر پختونخوا آئیں تو ہم عزت و تکریم دیں گے۔ سندھ میں اب تک تو ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی حکومت نظر آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں احساس پروگرام چل رہے ہیں، لوگوں کو 20 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت مفت مل رہی ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا وفاق سے ہمیں ہمارے حصے کے پیسے نہیں دیے جاتے، خیبرپختونخوا سب سے سستی بجلی بنا رہا ہے ، جس سے پورے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے۔

میں سیاست نہیں کرسکتا، وزیراعلیٰ سندھ نے تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن