وفاق سے ہمیں ہمارے حصے کے پیسے نہیں دیے جاتے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
تصویر بشکریہ سہیل آفریدی فیس بک
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق سے ہمیں ہمارے حصے کے پیسے نہیں دیے جاتے، خیبر پختونخوا سب سے سستی بجلی بنا رہا ہے، سستی بجلی سے پورے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے۔
کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بڑی تعداد میں عوام استقبال کےلیے آئے، اس لیے یہاں پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ پنجاب بھی گیا لیکن وہاں ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں ہوا، لاہور میں ہم جہاں کھانا کھانے جاتے تھے وہ مارکیٹ بند ہوجاتی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ ایک وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں سیاست نہیں کرسکتا، وزیراعلیٰ سندھ نے تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔
یہ بھی پڑھیے کراچی: پی ٹی آئی کی کورنگی میں جلسے کی درخواست مسترد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی آمد، سعید غنی نے استقبال کیاسہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ سندھ میں اب تک تو بے نظیر اور ذوالفقار بھٹو کی حکومت نظر آرہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ خیبر پختونخوا آئیں تو ہم عزت و تکریم دیں گے۔ سندھ میں اب تک تو ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی حکومت نظر آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں احساس پروگرام چل رہے ہیں، لوگوں کو 20 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت مفت مل رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا وفاق سے ہمیں ہمارے حصے کے پیسے نہیں دیے جاتے، خیبرپختونخوا سب سے سستی بجلی بنا رہا ہے ، جس سے پورے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی رہا ہے کہا کہ
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔