data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260110-03-4

 

میر بابر مشتاق

وینزویلا کے صدر کے اغوا اور ان پر غیر قانونی مقدمات کے بعد دنیا ایک بار پھر ایک ایسی تلخ حقیقت سے دوچار ہو چکی ہے جسے جدید دور میں دفن سمجھ لیا گیا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام کسی نئی شکل میں نہیں، بلکہ اسی پرانی، بے رحم اور سفاک روح کے ساتھ واپس مسلط کیا جا رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب توپ و تفنگ، براہِ راست قبضے اور جھنڈے گاڑنے کے بجائے معاشی پابندیاں، قانونی ہتھکنڈے، سفارتی دباؤ، میڈیا مہمات اور سیاسی انجینئرنگ استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ محض وینزویلا کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاستی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن پر کھلا حملہ ہے۔ اگر آج ایک خودمختار ملک کے منتخب صدر کو عالمی طاقت کی منشا کے تحت نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تو کل کسی بھی ملک کی قیادت، کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور کسی بھی قوم کا مستقبل محفوظ نہیں رہے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ، جو خود کو ’’آزاد دنیا کا رہنما‘‘ کہلوانا پسند کرتا ہے، آج عملاً ایک بین الاقوامی غنڈے کے روپ میں سامنے آ چکا ہے۔ وہ دنیا کی بڑی اقوام کو نام لے کر دھمکیاں دیتا ہے، ریاستوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے، اور حکومتیں گرانے کو باقاعدہ سفارتی حکمت ِ عملی کا حصہ بنا چکا ہے۔ یہ وہی اندازِ حکمرانی ہے جو ماضی میں نوآبادیاتی قوتوں کا خاصہ ہوا کرتا تھا بس اب زبان بدلی ہے، رویہ نہیں۔

وینزویلا کیوں نشانہ بنا؟ یہ سوال کسی خفیہ فائل، کسی سازشی تھیوری یا کسی مبہم تجزیے میں پوشیدہ نہیں۔ اس کا جواب وینزویلا کی زمین کے نیچے دفن ان بے پناہ تیل کے ذخائر میں ہے جو اسے دنیا کے قدرتی وسائل سے مالا مال ترین ممالک میں شامل کرتے ہیں۔ امریکا کو نہ وہاں کی جمہوریت سے دلچسپی ہے، نہ انسانی حقوق سے، نہ عوامی فلاح سے۔ اسے صرف ایک چیز چاہیے: کنٹرول۔ اسی کنٹرول کے لیے وینزویلا پر برسوں سے معاشی پابندیاں مسلط کی گئیں، بینکاری نظام کو مفلوج کیا گیا، عالمی منڈیوں تک رسائی روکی گئی، ادویات اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالیں گئیں، اور پھر انہی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کو حکومت کی ناکامی کے طور پر پیش کیا گیا۔ اپوزیشن کو کھلی سرپرستی دی گئی، بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ اب اس تمام دباؤ کے بعد براہِ راست قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کسی بین الاقوامی قانون، کسی اخلاقی اصول یا کسی عالمی ضابطے کے تحت نہیں، بلکہ محض طاقت کے نشے میں کیا جا رہا ہے۔ طاقت جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک اور خطرناک پہلو عالمی طاقتوں اور اداروں کی خاموشی ہے۔ وہ قوتیں جو خود کو ’’بین الاقوامی امن کے ضامن‘‘ کہتی ہیں، آج یا تو خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں یا بے بسی کا ڈھونگ رچا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور نام نہاد جمہوری بلاک سب ایک بار پھر امریکی من مانی کے سامنے بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔

یہ خاموشی محض کمزوری نہیں، بلکہ جرم میں شراکت ہے۔ جب عالمی ادارے طاقتور کے ظلم پر آنکھ بند کریں اور کمزور کی فریاد کو نظر انداز کر دیں، تو وہ خود اپنے وجود کے جواز سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ قانون صرف کمزور پر لاگو ہو اور طاقتور کے لیے غیر مؤثر ہو جائے۔ یہی امریکی طرزِ عمل ہمیں غزہ میں بھی نظر آتا ہے۔ ایک طرف غزہ کو تہس نہس کرنے والا، اسی ہزار سے زائد انسانوں کے قتل کا ذمے دار نیتن یاہو ہے، جو امریکی صدر ٹرمپ کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف وہ ریاستیں اور قیادتیں ہیں جو امریکی پالیسیوں سے اختلاف کرنے کی جسارت کریں، تو ان پر پابندیاں، بغاوتیں، کردار کشی اور مقدمات مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ پیغام بالکل واضح ہے: تابعداری کرو، یا تباہی کے لیے تیار رہو۔ یہ پیغام جمہوریت کا نہیں، آزادی کا نہیں، بلکہ کھلی دھمکی اور عالمی غنڈہ گردی کا اعلان ہے۔ کیا یہ نظام ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے؟ تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ بدمعاشی اور جبر پر قائم نظام زیادہ دیر نہیں چلتا۔ روم ہو یا برطانیہ، ہسپانیہ ہو یا سوویت یونین سب اپنی طاقت کے نشے میں یہی سمجھتے رہے کہ وہ ناقابل ِ شکست ہیں۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، زوال اتنا ہی قریب آ جاتا ہے۔

آج خود امریکا کے اندر ان سامراجی پالیسیوں پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک دنیا بھر میں جنگیں لڑی جائیں گی؟ کب تک انسانی حقوق کا دوہرا معیار اپنایا جائے گا؟ کب تک ٹیکس دہندگان کا پیسہ خون، بمباری اور تباہی پر خرچ ہوگا؟ یہ سوال اس بات کا ثبوت ہیں کہ خود سامراجی طاقت کے اندر بھی اس نظام کے خلاف بے چینی اور مزاحمت جنم لے رہی ہے۔

ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آج دنیا بھر کی انسانیت دوست، قانون پسند اور آزاد سوچ رکھنے والی قوتوں پر لازم ہے کہ وہ وینزویلا کے معاملے میں خاموش نہ رہیں۔ یہ صرف ایک صدر یا ایک ملک کا مقدمہ نہیں۔ یہ ریاستی خودمختاری کا مقدمہ ہے، یہ بین الاقوامی قانون کا مقدمہ ہے اور یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر آج وینزویلا خاموشی سے کچلا گیا، تو کل کوئی اور ملک ہوگا، اور پرسوں شاید ہم خود۔ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

وینزویلا ہمیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ نوآبادیاتی نظام مرا نہیں، وہ صرف زیادہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ اب اس کے چہرے سے جمہوریت اور انسانی حقوق کا نقاب اتر چکا ہے، اور اس کا اصل چہرہ طاقت، لالچ اور جبر سب کے سامنے آ چکا ہے۔ اور تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو اس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بالآخر طاقت بن جاتی ہیں۔ فیصلہ دنیا کو کرنا ہے: کیا وہ قانون کے ساتھ کھڑی ہوگی، یا طاقت کے ساتھ؟

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی نوا بادیاتی طاقت کے رہا ہے چکا ہے

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے