Express News:
2026-07-24@15:22:05 GMT

بانی کو سمجھانے کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی منعقدہ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے لیے کمیٹیاں بنائیں اور سیاسی کارکن رہا اور مقدمات ختم کیے جائیں۔ یہ کانفرنس اسیر بانی پی ٹی آئی کے پرانے ساتھیوں اور ان کی حکومت میں اہم عہدوں پر تعینات رہنے والوں کے علاوہ دو قابل ذکر سیاسی پارٹیوں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے بھی کی ہیں جب کہ بانی کی رہائی اور سیاسی صورت حال میں بہتری کے حامی دیگر رہنماؤں نے شرکت کی اور پی ٹی آئی اور اس کی اپنی ہی تحریک آئین تحفظ کے کسی رہنما نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی بلکہ پی ٹی آئی نے تو پہلے ہی کانفرنس منعقد کرنے والوں کو اپنا ’’غدار‘‘ قرار دے کر ان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تھا اور پی ٹی آئی سے نکالے جانے والے رکن قومی اسمبلی ضرور شریک ہوئے اور شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے مگر بانی نے اپنے پارٹی رہنماؤں کی بجائے کسی اور کو اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بانی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا مگر ڈائیلاگ بانی و دیگر کی رہائی کے ساتھ بنیادی نظام پر بھی ہونا چاہیے اور میں نہ مانوں والی سوچ نے پی ٹی آئی کو اس حال پر پہنچایا ہے۔ پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والوں، پیپلز پارٹی اور اے این پی سے پی ٹی آئی کو نہ جانے کیا مسئلہ ہے۔کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو اکٹھا ہونا اور سیاستدانوں کو خود کو مضبوط بنانا ہوگا اور اداروں کو بھی اپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا چاہیے۔ کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈائیلاگ کسی کو اقتدار میں لانے کے لیے نہیں عوام کے لیے ہونے چاہئیں جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے وہ یہاں نہیں ہیں جب کہ وہی بینی فشری ہیں اور کرپشن میں سیاستدانوں سمیت سب ملوث ہیں۔

کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ جب کوئی اقتدار میں ہوتا ہے تو اس کا بیانیہ ہوتا ہے کہ سب ٹھیک ہے اور جب وہ اپوزیشن میں آ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ سب کچھ تباہ ہو گیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ میں لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبائی ہم آہنگی اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ہونا چاہیے۔ کے پی حکومت میں شامل نہ کیے جانے والے ایک رہنما نے کہا کہ سیاسی طور پر ملک تقسیم اور بداعتمادی کا بھی شکار ہے۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ بانی موجودہ صورت حال کی بہتری میں کسی حد تک تعاون کر سکتے ہیں یہ اہم ہے مگر حل نکلنا چاہیے۔کانفرنس میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت کو بھی محسوس کیا گیا اور کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی کو یہاں ضرور شریک ہونا چاہیے تھا جو معاملات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ کانفرنس کے اعلامیے میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج، پولیس اور رینجرز سمیت تمام سیکیورٹیز فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور شہدا کے لیے دعا کی گئی اورکہا گیا کہ ملکی سالمیت، دفاع اور ملکی سلامتی کے اداروں کا وقار اور عزت و احترام ضروری ہے اور اس سلسلے میں قوم ایک ہے۔

اعلامیے میں ملکی اداروں کی عزت و احترام کا خاص طور پر خیال رکھنے پر زور دیا گیا مگر بانی اور پی ٹی آئی کا آفیشل ترجمان اسی بات سے متفق نہیں کیونکہ بانی اور پی ٹی آئی کے جارحانہ اقدامات ہی کو سیاست سمجھ کر جارحیت پر اترے ہوئے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی کا تقرر بھی بانی نے جارحیت بڑھانے کے لیے کیا تھا جو اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ مزاحمت ہوگی تو ہی حکومت اور اداروں سے مفاہمت ہو سکے گی۔ وزیر اعلیٰ کے پی کی جارحیت کا یہ عالم ہے کہ ان کے خیال میں ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کی نہیں بلکہ بانی جماعت کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور ہمیں اس سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔

وزیر اعلیٰ کے پی کو اپنے ہی صوبے میں ہونے والی دہشت گردی اور پاک فوج کا آئے دن ہونے والا جانی نقصان اور سیکیورٹیز فورسز کی قربانیاں بالکل نظر نہیں آ رہیں۔ کانفرنس میں بانی کے خیر خواہوں سمیت کسی رہنما نے نہیں کہا کہ بانی کی رہائی ہی ملک کے موجودہ مسائل کا حل ہے بلکہ سب نے حقائق کا اعتراف اور بہتری کی بات کی۔ سابق وزیر فواد چوہدری نے ایک ٹاک شو میں کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت خود اپنے بانی کی رہائی نہیں چاہتی اور وہ خود بانی کو جیل ہی میں رکھو کمیٹی بن چکی ہے کیونکہ بانی کے رہا ہونے سے ان کے مزے ختم ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بانی کی ایک بہن کے بیٹے کو سزا ہو چکی جب کہ دوسری بہن کے بیٹے کو فوراً رہائی مل گئی۔

بانی کی ان بہنوں کی جب بھی بھائی سے ملاقاتیں ہوتی تھیں انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ انھوں نے اپنے بھائی کو سمجھایا ہے کہ وہ حقائق کا ادراک کریں اور ملکی سلامتی اداروں کے خلاف سخت اور جارحانہ بیانات نہ دیں تاکہ کشیدگی کم اور بانی کے لیے موجودہ مشکلات کم ہوسکیں۔ بانی کی بہنوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بانی کی باتیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں اور بھائی کو اصل حقائق سے آگاہ نہیں کرتیں تاکہ وہ خود کو میڈیا میں زندہ اور نمایاں رکھیں۔بانی کی بہنوں کی بھائی سے ملاقاتیں بند ہیں مگر بانی کی اہلیہ کی دو ہفتوں میں دو ملاقاتیں ہوئی ہیں تو بانی کی اہلیہ یا ان کے وکیلوں کو چاہیے کہ وہ بانی کو جارحانہ اشتعال انگیز بیانات سے روکیں اور بانی اپنے حامی سوشل میڈیا و اینکروں کو گمراہی پھیلانے سے روکیں جو حالات مسلسل بگاڑ رہے ہیں۔ بانی کو ان کے خیر خواہ ہی سمجھا سکتے ہیں کہ ان کی مزاحمت کبھی بھی مفاہمت نہیں ہونے دے گی اور نہ بانی کی رہائی ممکن ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی کی رہائی اور پی ٹی آئی کانفرنس میں ہونا چاہیے کہا گیا کہ یہ بھی کہا رہنماو ں کہ بانی ہیں اور بانی کو ہیں کہ کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے