وینزویلا اور امریکا کے مابین کشیدہ تعلقات، محاذ آرائی اور باہمی عدم اعتماد کی کہانی نئی ہرگز نہیں مگر مبصرین اسے تیل کے وسائل پر قبضے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وسائل پر قبضے کی دوڑ در اصل ایک عالمی سرد جنگ ہے جو کسی وقت گرم عالمی جنگ میں بدل سکتی ہے، اس وقت ہر جگہ طاقت اور معیشت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ تین جنوری کو امریکی کمانڈوز نے وینزویلا کے صدر کو ان کے خواب گاہ میں گھس کر گرفتار کیا اوراغوا کرکے امریکا لے گئے۔
اس آپریشن کے دوران سکیورٹی پر مامور کیوبا کے انقلابی فورس کے 32 کمانڈوز مارے گئے۔ یہ جرم امریکا نے دوسری بار کیا۔ 1989 میں اسی طرح پاناما کے صدر نوریگا کو اغوا کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران ہزاروں شہری ہلاک ہوئے۔ اب وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا اور نیویارک منتقلی کے بعد اسلحے اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگا کر فیڈرل عدالت میں پیش کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ وینزویلا ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس تیل کے بڑے ذخائر ہیں ان کی فوج تعداد، ہتھیاروں اور پیشہ ورانہ تربیت کے لحاظ سے لاطینی امریکا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ لڑاکا طیارے، فضائی دفاعی نظام، میزائل، اور منظم بری فوج موجود ہیں مگر وہ اپنے صدر اور خاتون اول کی حفاظت نہ کرسکے۔
عالمی منظر نامہ میں طاقت اب صرف اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر اور جدید جنگی جہازوں کا اور شکست میدان جنگ میں زمین ہارنے کا نام نہیں رہا۔ آج تذلیل، رسوائی اور کردار کشی کے ذریعے علامتی شکست بھی وہ ہتھیار بن چکے ہیں جن کے ذریعے ریاستوں کو ذلیل کرکے جھکایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ چارٹر، ویانا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین جس کی اجازت نہیں دیتا، ریاستی خودمختاری کا احترام ہر کسی پر لازم ہے۔ کسی کے صدر کو اغوا کرکے اپنے ملک منتقل کرنا یا عوامی تذلیل کا نشانہ بنانا دراصل پورے ملک کی تذلیل کے مترادف ہے۔ یہ صرف وینزویلا کی خودمختاری پر حملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور نام نہاد مہذب عالمی طاقتوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) میں کسی ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال، حتیٰ کہ دھمکی دینے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
خودمختار ملک کی قیادت کو اغوا کرنا، زبردستی حکومت تبدیل یا تبدیل کرنے کی کوشش کرنا، خفیہ کارروائیوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا جارحیت اور ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ مگر امریکا برسوں سے ان قوانین کو روندتا چلا آرہا ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔ 1953 میں سی آئی اے کا برطانوی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت گرانا، 1973ء میں فوجی بغاوت کے ذریعے چلی کے صدر سالوادور آلینڈے کی منتخب حکومت گرا کر جنرل پنوشے کی خونی آمریت کے لیے رستہ بنانا، نائن الیون کے خود ساختہ ڈرامے کی آڑ میں افغانستان پر ڈیزی کٹر بموں اور مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں شہری شہید اور لاکھوں معذور ہوئے۔
ایک آزاد حکومت کا تختہ الٹا کر دو دہائیوں تک قابض رہنے کے بعد ذلت آمیز شکست کے بعد انخلا پر مجبور ہوئے، مگر کسی نے اسے جوابدہ نہیں ٹھہرایا۔ 2003 میں جھوٹے الزامات کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیا، لاکھوں عراقی قتل اور معذور ہوئے، معاشی طور پر خوشحال عراق کو تباہ و برباد کرنے کے بعد بے شرمی سے تسلیم کیا کہ ہتھیاروں کا الزام غلط تھا۔
2011ء میں امریکی مداخلت نے مستحکم ریاست لیبیا کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا جو آج تک سنبھل نہ سکی۔ اگرچہ ناپسندیدہ حکومتوں کو گرا کر اپنی پسند کی حکومتیں مسلط کرنا امریکی وطیرہ ہے مگر وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کا اغوا دراصل وینزویلا کے وسائل پر قبضے کا علی الاعلان منصوبہ ہے۔ مگر روس، چین، اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مردہ عالمی ضمیر حسب سابق رسمی بیانات تک محدود ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کی نظر میں بھی کوئی وینزویلا ہو جس پر بوقت ضرورت چھڑائی کی جا سکے۔
وینزویلا کے سانحہ کے تناظر میں ایک انڈین مسلمان پارلیمنٹیرین اسد الدین اویسی کی پاکستان کے بارے میں مضحکہ خیز گیدڑ بھبھکیاں حیران کن ہیں، فرمایا کہ "جو آپریشن امریکا نے وینزویلا میں کیا ہے انڈیا کو بھی ایسا آپریشن پاکستان میں کرکے نومبر 2008 کے حملوں کے ذمے داروں کو ہندوستان لانا چاہیے"۔ نام نہاد مسلمان لیڈر اویسی اکثر پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن کبھی انڈیا کے مسلمانوں کو انتہا پسند سرنڈر موذی سرکار، وشوا ہندوپریشد، آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی دہشتگرد تنظیموں کی مسلم کش دہشتگردی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی مگر وقتاً فوقتاً پاکستان کے بارے میں بدزبانی کرتے رہتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ انتہاپسند ہندوؤں کو اپنی حب الوطنی باور نہیں کراسکے۔
اگر اویسی مئی 2025کے معرکہ حق میں پاکستانی افواج کے ہاتھوں انڈیا کی ذلت آمیز شکست کے بارے میں پوری جانکاری لے لیتے تو شاید وہ منہ نہ کھولتے۔ اویسی صاحب یہ خاطر جمع رکھیں بھارت امریکا ہے اور نہ پاکستان وینزویلا، ابھی تو "ابھی نندن" کو مرمت کے بعد چائے پلانے سے لے کر معرکہ حق کے دوران انڈیا کے 7 جہازوں کو جنگلی کبوتروں کی طرح پھڑکانے کی کہانیاں زبان زد عام ہے مگر آپ پھر باز نہیں آرہے ہیں۔ اویسی جی ایسے مضحکہ خیز بیانات دے کر اپنا مذاق خود نہ اڑایا کریں۔
وینزویلا کی صورتحال کے بعد پاکستانی حکمرانوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ اگر اپنے محلات اور ایوان اقتدار میں بین الاقوامی اغواء کاروں سے محفوظ ہیں تو یہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کی علمبردار افواج پاکستان کے بدولت ہے انھی کے دم خم سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔
افواج پاکستان پر تنقید سے پہلے سیاستدانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ افواج پاکستان میں بھرتی ہونے کا کیا معیار ہے؟ سخت ترین امتحان، ذہنی اور جسمانی صحت کو جانچنے کے میڈیکل کے کئی مراحل۔ افواج پاکستان میں کسی جرنیل کا بیٹا سپاہی بھی بھرتی نہیں ہو سکتا اگر اس میں اہلیت نہ ہو مگر سیاستدانوں میں یہ عہدے نسل در نسل چلتے ہیں۔ سیاستدانوں کو الیکشن جیتنے کے پیسے اور قبولیت کے علاوہ کچھ بھی نہیں چاہیے، اہلیت و صلاحیت کا سیاست میں کوئی کام نہیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد حکمران بننے کے لیے تو کوئی معیار ہی نہیں۔ ذہنی اور جسمانی میڈیکل کے بغیر تو ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ملتا مگر اس ملک میں صدارت، وزارت اور حکمرانی مل جاتی ہے جو کبھی آر ٹی ایس اور کبھی فارم 47 کی کرشمہ سازی سے اقتدار کے زینے طے کرتا تو کھبی بلا انتخاب قبولیت کی بنیاد پر اقتدار کا ہما اس کے سر پر بیٹھ جاتا ہے۔
افواج پاکستان پر تنقید کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ رات کی تاریکی میں امریکی آپریشن سے وینزویلا کا اقوام عالم کی نظروں میں کیا مقام رہ گیا ہے۔ اور پاکستان پر جب انڈیا نے مئی 2025 میں حملہ کیا تو افواج پاکستان کے دندان شکن جواب سے انڈیا پوری دنیا میں ذلیل و رسوا، سرنڈر موذی رہتی دنیا تک اپنے زخم چاٹتے رہیں گے۔ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت و توقیر میں غیر متوقع طور پر شاندار اضافہ ہوا۔ اس لیے افواج پاکستان سے نفرت کرنے والے سیاستدان اور سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل لونڈے لپاڑے اپنے گریبانوں میں جھانک کر سوچیں کہ اگر امریکا وینزویلا کے صدر اور خاتون اول کو ایوان صدر سے گرفتار کرکے لے جاسکتا ہے تو ان میں سرخاب کا ایسا کونسا پر لگا ہوا ہے کہ ان کو نہیں اٹھایا جاسکتا؟ سرخاب کا وہ پر صرف اور صرف افواج پاکستان اور آئی ایس آئی جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے ہیں جس کے نام سے بھی دشمن خوف زدہ رہتے ہیں، کوئی بین الاقوامی دہشتگرد ریاست پاکستان کی طرف نظر اٹھانے کی جرات بھی نہیں کرسکتا۔ افواج پاکستان، پاکستانی قوم کے لیے نعمت کبریٰ اور اللہ رب العزت کا انعام ہے۔ اس لیے مادر وطن کے دفاع کے لیے افواج کے ساتھ بحیثیت قوم شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے اور جانے انجانے میں دشمن کے ایجنڈے کا حصہ بن کر تاقیامت نفرت کا استعارہ بننے اور ماتھے پر غداری کا داغ لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر افواج پاکستان بین الاقوامی اقوام متحدہ کے بارے میں پاکستان کے کے ذریعے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔