Express News:
2026-07-24@10:28:44 GMT

پاکستان وینزویلا نہیں

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

وینزویلا اور امریکا کے مابین کشیدہ تعلقات، محاذ آرائی اور باہمی عدم اعتماد کی کہانی نئی ہرگز نہیں مگر مبصرین اسے تیل کے وسائل پر قبضے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وسائل پر قبضے کی دوڑ در اصل ایک عالمی سرد جنگ ہے جو کسی وقت گرم عالمی جنگ میں بدل سکتی ہے، اس وقت ہر جگہ طاقت اور معیشت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ تین جنوری کو امریکی کمانڈوز نے وینزویلا کے صدر کو ان کے خواب گاہ میں گھس کر گرفتار کیا اوراغوا کرکے امریکا لے گئے۔

اس آپریشن کے دوران سکیورٹی پر مامور کیوبا کے انقلابی فورس کے 32 کمانڈوز مارے گئے۔ یہ جرم امریکا نے دوسری بار کیا۔ 1989 میں اسی طرح پاناما کے صدر نوریگا کو اغوا کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران ہزاروں شہری ہلاک ہوئے۔ اب وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا اور نیویارک منتقلی کے بعد اسلحے اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگا کر فیڈرل عدالت میں پیش کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ وینزویلا ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس تیل کے بڑے ذخائر ہیں ان کی فوج تعداد، ہتھیاروں اور پیشہ ورانہ تربیت کے لحاظ سے لاطینی امریکا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ لڑاکا طیارے، فضائی دفاعی نظام، میزائل، اور منظم بری فوج موجود ہیں مگر وہ اپنے صدر اور خاتون اول کی حفاظت نہ کرسکے۔

عالمی منظر نامہ میں طاقت اب صرف اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر اور جدید جنگی جہازوں کا اور شکست میدان جنگ میں زمین ہارنے کا نام نہیں رہا۔ آج تذلیل، رسوائی اور کردار کشی کے ذریعے علامتی شکست بھی وہ ہتھیار بن چکے ہیں جن کے ذریعے ریاستوں کو ذلیل کرکے جھکایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ چارٹر، ویانا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین جس کی اجازت نہیں دیتا، ریاستی خودمختاری کا احترام ہر کسی پر لازم ہے۔ کسی کے صدر کو اغوا کرکے اپنے ملک منتقل کرنا یا عوامی تذلیل کا نشانہ بنانا دراصل پورے ملک کی تذلیل کے مترادف ہے۔ یہ صرف وینزویلا کی خودمختاری پر حملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور نام نہاد مہذب عالمی طاقتوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) میں کسی ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال، حتیٰ کہ دھمکی دینے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

خودمختار ملک کی قیادت کو اغوا کرنا، زبردستی حکومت تبدیل یا تبدیل کرنے کی کوشش کرنا، خفیہ کارروائیوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا جارحیت اور ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ مگر امریکا برسوں سے ان قوانین کو روندتا چلا آرہا ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔ 1953 میں سی آئی اے کا برطانوی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت گرانا، 1973ء میں فوجی بغاوت کے ذریعے چلی کے صدر سالوادور آلینڈے کی منتخب حکومت گرا کر جنرل پنوشے کی خونی آمریت کے لیے رستہ بنانا، نائن الیون کے خود ساختہ ڈرامے کی آڑ میں افغانستان پر ڈیزی کٹر بموں اور مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں شہری شہید اور لاکھوں معذور ہوئے۔

ایک آزاد حکومت کا تختہ الٹا کر دو دہائیوں تک قابض رہنے کے بعد ذلت آمیز شکست کے بعد انخلا پر مجبور ہوئے، مگر کسی نے اسے جوابدہ نہیں ٹھہرایا۔ 2003 میں جھوٹے الزامات کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیا، لاکھوں عراقی قتل اور معذور ہوئے، معاشی طور پر خوشحال عراق کو تباہ و برباد کرنے کے بعد بے شرمی سے تسلیم کیا کہ ہتھیاروں کا الزام غلط تھا۔

2011ء میں امریکی مداخلت نے مستحکم ریاست لیبیا کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا جو آج تک سنبھل نہ سکی۔ اگرچہ ناپسندیدہ حکومتوں کو گرا کر اپنی پسند کی حکومتیں مسلط کرنا امریکی وطیرہ ہے مگر وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کا اغوا دراصل وینزویلا کے وسائل پر قبضے کا علی الاعلان منصوبہ ہے۔ مگر روس، چین، اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مردہ عالمی ضمیر حسب سابق رسمی بیانات تک محدود ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کی نظر میں بھی کوئی وینزویلا ہو جس پر بوقت ضرورت چھڑائی کی جا سکے۔

وینزویلا کے سانحہ کے تناظر میں ایک انڈین مسلمان پارلیمنٹیرین اسد الدین اویسی کی پاکستان کے بارے میں مضحکہ خیز گیدڑ بھبھکیاں حیران کن ہیں، فرمایا کہ "جو آپریشن امریکا نے وینزویلا میں کیا ہے انڈیا کو بھی ایسا آپریشن پاکستان میں کرکے نومبر 2008 کے حملوں کے ذمے داروں کو ہندوستان لانا چاہیے"۔ نام نہاد مسلمان لیڈر اویسی اکثر پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن کبھی انڈیا کے مسلمانوں کو انتہا پسند سرنڈر موذی سرکار، وشوا ہندوپریشد، آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی دہشتگرد تنظیموں کی مسلم کش دہشتگردی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی مگر وقتاً فوقتاً پاکستان کے بارے میں بدزبانی کرتے رہتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ انتہاپسند ہندوؤں کو اپنی حب الوطنی باور نہیں کراسکے۔

اگر اویسی مئی 2025کے معرکہ حق میں پاکستانی افواج کے ہاتھوں انڈیا کی ذلت آمیز شکست کے بارے میں پوری جانکاری لے لیتے تو شاید وہ منہ نہ کھولتے۔ اویسی صاحب یہ خاطر جمع رکھیں بھارت امریکا ہے اور نہ پاکستان وینزویلا، ابھی تو "ابھی نندن" کو مرمت کے بعد چائے پلانے سے لے کر معرکہ حق کے دوران انڈیا کے 7 جہازوں کو جنگلی کبوتروں کی طرح پھڑکانے کی کہانیاں زبان زد عام ہے مگر آپ پھر باز نہیں آرہے ہیں۔ اویسی جی ایسے مضحکہ خیز بیانات دے کر اپنا مذاق خود نہ اڑایا کریں۔

وینزویلا کی صورتحال کے بعد پاکستانی حکمرانوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ اگر اپنے محلات اور ایوان اقتدار میں بین الاقوامی اغواء کاروں سے محفوظ ہیں تو یہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کی علمبردار افواج پاکستان کے بدولت ہے انھی کے دم خم سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔

افواج پاکستان پر تنقید سے پہلے سیاستدانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ افواج پاکستان میں بھرتی ہونے کا کیا معیار ہے؟ سخت ترین امتحان، ذہنی اور جسمانی صحت کو جانچنے کے میڈیکل کے کئی مراحل۔ افواج پاکستان میں کسی جرنیل کا بیٹا سپاہی بھی بھرتی نہیں ہو سکتا اگر اس میں اہلیت نہ ہو مگر سیاستدانوں میں یہ عہدے نسل در نسل چلتے ہیں۔ سیاستدانوں کو الیکشن جیتنے کے پیسے اور قبولیت کے علاوہ کچھ بھی نہیں چاہیے، اہلیت و صلاحیت کا سیاست میں کوئی کام نہیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد حکمران بننے کے لیے تو کوئی معیار ہی نہیں۔ ذہنی اور جسمانی میڈیکل کے بغیر تو ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ملتا مگر اس ملک میں صدارت، وزارت اور حکمرانی مل جاتی ہے جو کبھی آر ٹی ایس اور کبھی فارم 47 کی کرشمہ سازی سے اقتدار کے زینے طے کرتا تو کھبی بلا انتخاب قبولیت کی بنیاد پر اقتدار کا ہما اس کے سر پر بیٹھ جاتا ہے۔

افواج پاکستان پر تنقید کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ رات کی تاریکی میں امریکی آپریشن سے وینزویلا کا اقوام عالم کی نظروں میں کیا مقام رہ گیا ہے۔ اور پاکستان پر جب انڈیا نے مئی 2025 میں حملہ کیا تو افواج پاکستان کے دندان شکن جواب سے انڈیا پوری دنیا میں ذلیل و رسوا، سرنڈر موذی رہتی دنیا تک اپنے زخم چاٹتے رہیں گے۔ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت و توقیر میں غیر متوقع طور پر شاندار اضافہ ہوا۔ اس لیے افواج پاکستان سے نفرت کرنے والے سیاستدان اور سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل لونڈے لپاڑے اپنے گریبانوں میں جھانک کر سوچیں کہ اگر امریکا وینزویلا کے صدر اور خاتون اول کو ایوان صدر سے گرفتار کرکے لے جاسکتا ہے تو ان میں سرخاب کا ایسا کونسا پر لگا ہوا ہے کہ ان کو نہیں اٹھایا جاسکتا؟ سرخاب کا وہ پر صرف اور صرف افواج پاکستان اور آئی ایس آئی جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے ہیں جس کے نام سے بھی دشمن خوف زدہ رہتے ہیں، کوئی بین الاقوامی دہشتگرد ریاست پاکستان کی طرف نظر اٹھانے کی جرات بھی نہیں کرسکتا۔ افواج پاکستان، پاکستانی قوم کے لیے نعمت کبریٰ اور اللہ رب العزت کا انعام ہے۔ اس لیے مادر وطن کے دفاع کے لیے افواج کے ساتھ بحیثیت قوم شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے اور جانے انجانے میں دشمن کے ایجنڈے کا حصہ بن کر تاقیامت نفرت کا استعارہ بننے اور ماتھے پر غداری کا داغ لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر افواج پاکستان بین الاقوامی اقوام متحدہ کے بارے میں پاکستان کے کے ذریعے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا