پاکستان بزنس فورم کا زرعی برآمدات کے فروغ کیلیے فوری اصلاحات پر زور
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان بزنس فورم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زرعی اور باغبانی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے فوری اور مؤثر ساختی اصلاحات کرے، بصورت دیگر پاکستان عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقتی حیثیت مزید کھو سکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی زرعی برآمدات میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پی بی ایف کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے کہا کہ بار بار آنے والے سیلاب، موسمیاتی تبدیلیوں اور مالی دباؤ کے باعث کسان اور برآمد کنندگان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں پی بی ایف حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فنانس بل 2024 کے تحت نافذ کیے گئے نارمل ٹیکس ریجیم کو کم از کم دو سال کے لیے، یعنی 2028 تک مؤخر کیا جائے۔ اس عبوری مدت کے دوران برآمدی رقوم پر ایک فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو فل اینڈ فائنل ٹیکس کے طور پر بحال کیا جائے تاکہ برآمدی شعبے کو یقین، نقدی اور فوری ریلیف مل سکے۔فورم نے زرعی ٹیوب ویلز کے لیے بجلی کے نرخوں کو کمی لانے پر بھی سفارش کی۔ پی بی ایف کے مطابق بجلی کی بلند قیمتوں نے پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جس سے کسانوں کی منافع بخش صلاحیت متاثر ہوئی اور پیداوار کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ آبپاشی کے لیے سستی توانائی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور برآمدات پر مبنی زراعت کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔زرعی پیداوار اور فصلوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے احمد جواد نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ فیڈرل سیڈ اتھارٹی کو ہدایت دے کہ زیر التوا نئی بیج اقسام کی منظوری کے عمل کو فوری طور پر تیز کیا جائے۔ بیجوں کی منظوری میں تاخیر جدت، پیداوار میں اضافے اور عالمی معیار پر پورا اترنے کی پاکستان کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔چاول کی برآمدات کے حوالے سے پی بی ایف نے نشاندہی کی کہ عالمی منڈیوں میں بھارتی چاول سے مقابلے کے لیے لاجسٹک اخراجات کم کرنا ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں کارگو ٹرینوں کے استعمال کو فروغ دے کر اندرون ملک فریٹ لاگت کم کی جائے۔ فورم نے کم از کم برآمدی قیمت کے نظام کو مستقل طور پر ختم کرنے اور پاکستان کے اعلیٰ معیار کے باسمتی چاول کو اس کی قدرتی خصوصیات جیسے دانے کی لمبائی، خوشبو اور پکانے کے بہترین معیار کی بنیاد پر فروغ دینے کی سفارش کی۔ اس کے ساتھ کوالٹی کنٹرول، گریڈنگ اور ٹریس ایبلٹی نظام نافذ کیے جائیں جبکہ چھوٹے اور درمیانے برآمد کنندگان کے لیے بغیر کسی کم از کم حد کے مسابقتی شرح پر برآمدی فنانسنگ فراہم کی جائے۔کینو اور آم کی برآمدات کے فروغ کے لیے پی بی ایف نے ایران کو برآمدات یا بارٹر ٹریڈ کی اجازت دینے کی سفارش کی ہے۔ تجارت پاکستانی روپے میں کی جائے اور ایرانی وزارت تجارت کے ساتھ مل کر ادائیگیوں، لاجسٹکس اور مارکیٹ رسائی کے لیے باضابطہ طریقہ کار وضع کیا جائے۔ اسی طرح وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے این ایل سی کے ریفر کنٹینرز کو مسابقتی کرایوں پر استعمال کرتے ہوئے کینو اور آم کی برآمدات بڑھائی جا سکتی ہے۔فورم نے پنجاب کے پوٹھوہار خطے خصوصاً چکوال میں زیتون کی کاشت میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں زیتون کا تیل نکالنے کی مناسب سہولیات موجود نہیں اور ملک اب تک انٹرنیشنل اولیو کونسل کا رکن بھی نہیں ہے۔ پی بی ایف نے مطالبہ کیا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چکوال میں کم از کم دو جدید زیتون آئل ایکسٹریکشن پلانٹس لگانے میں سہولت فراہم کرے تاکہ ویلیو ایڈیشن، ضیاع میں کمی اور زیتون کے تیل کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔آلو کی برآمدات کو بھی ایک بڑا موقع قرار دیتے ہوئے پی بی ایف نے وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے لیے ایک منظم اور مستقل برآمدی فریم ورک قائم کرنے کی سفارش کی۔ ایک قابلِ پیش گوئی نظام کسانوں کو ہر سال آلو کی کاشت بڑھانے کی ترغیب دے گا اور یقینی برآمدی طلب کے ذریعے قیمتوں میں استحکام پیدا کرے گا۔زرعی لاگت میں اضافے کے مسئلے پر پی بی ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کھاد ساز اداروں کو ڈی اے پی کی مقامی پیداوار یا اس کے مؤثر متبادل غذائی حل متعارف کرانے کا پابند بنائے۔ درآمدی ڈی اے پی پر انحصار کم کرنا قیمتوں میں کمی اور بروقت دستیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔پاکستان بزنس فورم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر زرعی برآمدی اہداف حاصل کرنا ہیں تو زرعی شعبے میں کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت کی کمی پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنا ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی بی ایف نے کی برا مدات کیا جائے سفارش کی فورم نے کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔