کراچی:

سندھ میں آبادی میں تیز رفتار اضافے کے ساتھ مردوں میں نسبندی (ویسکٹومی) کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

 محکمہ بہبود آبادی سندھ کے مطابق 2021 میں سندھ میں ویسکٹومی کے صرف 24 کیسز تھے جو 2025 میں بڑھ کر 4 ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں ویسکٹومی کی سہولت سندھ کے تمام اضلاع میں موجود ہے، تاہم 80 فیصد کیسز کراچی کے سات اضلاع سے رپورٹ ہوئے، جبکہ لاڑکانہ میں 16 فیصد کیسز سامنے آئے ہیں۔

پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باعث مردوں میں اس مستقل فیملی پلاننگ طریقہ کار کو اپنانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے یہ عمل کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل آگاہی مہم کا اثر ہےکہ نس بندی نقصان نہیں بلکہ بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ میں سالانہ تقریباً 14 لاکھ نئے بچے پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ ملک بھر میں آبادی میں سالانہ اضافہ 60 لاکھ تک پہنچ چکا ہے وسائل، انفراسٹرکچر اور معاشی ترقی کی رفتار آبادی کے اس بڑھتے دباؤ کے مطابق نہیں ہے جس کے باعث حکومت اور متعلقہ ادارے آبادی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں جن میں مردوں کے لیے نسبندی (وزیکٹومی) کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔

 اس حوالے سے محکمہ بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر طالب لاشاری نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مردوں میں نس بندی کا طریقہ مستقل فیملی پلاننگ کا ایک محفوظ اور مؤثر حل سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد خاندان مکمل ہونے کے بعد مزید بچوں کو روکنا ہے ویسکٹومی ایک ایسا طریقہ ہے جس میں مردانہ اجزاء کو ایک معمولی سرجیکل پراسیجر کے ذریعے بند کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں حمل ممکن نہیں رہتا تاہم مرد کی ازدواجی زندگی، پوٹنسی یا جسمانی صحت پر کسی قسم کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سندھ کے مطابق سندھ کے تمام اضلاع میں ویسکٹومی کی سہولت موجود ہے، تاہم اس کا سب سے زیادہ رجحان کراچی کے سات اضلاع میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں تقریباً 80 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے بعد لاڑکانہ میں 16 فیصد کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ باقی کیسز صوبے کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی یہ سہولیات بڑے سرکاری اسپتالوں، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں اور ٹرشری کیئر اسپتالوں میں دستیاب ہیں۔ کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور سول اسپتال سمیت دیگر بڑے اسپتالوں میں بھی یہ مراکز قائم ہیں جہاں یہ سادہ اور مختصر دورانیے کا پروسیجر تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

 ڈاکٹر طالب لاشاری کے مطابق کہ اس عمل سے مرد کی ازدواجی صلاحیت پر صفر فیصد اثر پڑتا ہے بعض افراد وزیکٹومی اس لیے بھی کرواتے ہیں کہ اگر ان کے پہلے سے پیدا ہونے والے بچوں میں کوئی پیدائشی معذوری ہو تو وہ مزید بچوں میں اس معذوری کے خطرے سے بچ سکیں۔ اسی طرح ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا افراد بھی یہ طریقہ اپناتے ہیں تاکہ بیماری بچوں میں منتقل نہ ہو۔

یہ پروسیجر صرف تربیت یافتہ ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے اور اس میں بین الاقوامی اداروں کی معاونت بھی حاصل ہے، جو حکومت کو تربیت اور تکنیکی سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔ اس لیے عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ یہ عمل صرف سرکاری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی منظور شدہ سہولیات سے ہی کروائیں۔

ڈاکٹر طالب لاشاری نے مزید کہا کہ وزیکٹومی فیملی پلاننگ کا واحد طریقہ نہیں بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے مختلف متبادل طریقے موجود ہیں۔ مردوں کے لیے کنڈوم بھی ایک طریقہ ہے، جبکہ عورتوں کے لیے انجیکشن، بازو میں لگایا جانے والا امپلانٹ، گولیاں اور مستقل طریقہ کے طور پر ٹیوبل لیگیشن شامل ہیں۔ اصل مسئلہ آگاہی کا ہے، اور اگر لوگ مکمل معلومات کی بنیاد پر اپنی مرضی سے کوئی طریقہ منتخب کریں تو یہ ان کا ذاتی اور نجی فیصلہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نے مزید کہا ویسکٹومی کروانے کے بعد سب سے زیادہ ذہنی اور جسمانی اطمینان عورت کو حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اگر میاں بیوی اپنی فیملی مکمل کر چکے ہوں تو ازدواجی تعلقات کے دوران حمل کا خدشہ نہیں رہتا۔ اس سے عورت کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت بہتر ہوتی ہے، جبکہ مرد اور عورت دونوں کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور باہمی تعلقات میں بھی بہتری آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس طریقہ کار کو فیملی پلاننگ کے ایک مثبت اور فائدہ مند حل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیملی پلاننگ فیصد کیسز کے مطابق رہے ہیں سندھ کے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن