کوئٹہ (آئی این پی)بلوچستان حکومت نے صوبے میں الیکٹرک بائیکس اسکیم کو عام آدمی کیلئے متعارف کرا نے کا فیصلہ کیا ہے، ورکنگ ویمن اور سرکاری ملازمین کو 30 فیصد سبسڈی فراہم کی جائے گی۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں الیکٹرک بائیکس اسکیم، سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنس اورمیرٹ پر تعیناتیوں سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ صوبائی کابینہ نے وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان میں مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں کے آغاز پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکٹرک بائیکس اسکیم کو عام آدمی کے لیے متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت طلبہ، ورکنگ ویمن اور سرکاری ملازمین کو 30 فیصد سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ عام شہریوں کو بھی بینک فنانسنگ کے تحت آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس دی جائیں گی۔اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے کے لگ بھگ ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین کے علاج معالجے پر سالانہ 6 سے 7 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، جس کے پیشِ نظر کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔کابینہ نے پیشگی میڈیکل ادائیگیوں اور عوامی انڈومنٹ فنڈ کے آڈٹ کی بھی منظوری دی۔ صوبائی کابینہ نے انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کو گوادر، کیچ اور آواران تک توسیع دینے کی منظوری دی، جبکہ میرٹوکریسی کے فروغ کیلئے میرٹ پر تعیناتیوں کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل امانت ہیں، جنہیں منصفانہ انداز میں خرچ کیا جانا چاہیے، اور گڈ گورننس کا قیام میرٹ کے بغیر ممکن نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین الیکٹرک بائیکس صوبائی کابینہ کابینہ نے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف