شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے نہیں آئے، نہ ہی دہشت گردی میں اضافے کا الزام پی ٹی آئی پر ڈالا جا سکتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی ایک صوبے میں حکومت موجود ہے اور بطور صوبائی حکومت اسے چاہیے تھا کہ عوام میں دہشت گردی کے خلاف ایک مؤثر تحریک چلاتی، مگر ہمیں پی ٹی آئی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کوئی سنجیدہ جدوجہد نظر نہیں آئی۔

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ایک ہی بیانیہ بنا رکھا ہے کہ نظام رک گیا ہے اور نظام نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مطابق نظام نے پارٹی کو زندہ زمین میں گاڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی موجودہ قیادت سب کچھ کرتی ہے، مگر وہ نہیں کرتی جو عمران خان کہتے ہیں۔ عمران خان احتجاجی تحریک شروع کرنے کا کہتے ہیں، لیکن قیادت کبھی لاہور اور کبھی کراچی چلی جاتی ہے، کبھی سٹریٹ پاور شو کی بات کرتی ہے۔ ان لوگوں کی نیت ہی نہیں کہ عمران خان کو رہائی دلوائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن لاہور میں موجودہ قیادت کے ساتھ عوام کی بڑی تعداد کو نکلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ اب سندھ حکومت نے مزار قائد میں جلسے کی اجازت دے دی ہے، اگر 11 جنوری کو یہ بڑا جلسہ کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ پی ٹی آئی کے کارکن اور عوام موجودہ قیادت کے ساتھ نہیں ہیں۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان ایک بے گناہ شخص ہیں، انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، لیکن غلط فیصلوں کے باعث جیل میں ہیں اور موجودہ حالات میں ان کا باہر آنا مشکل نظر آ رہا ہے۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے شیر افضل مروت نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا بھی وہی بیانیہ ہے جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا۔ ان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ مذاکرات سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور یہ صرف وقت کا ضیاع ہیں۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران ریاض، صابر شاکر، معید پیرزادہ اور شہباز گل 2018 سے 2022 تک جنرل فیض حمید کے قریبی لوگوں میں شامل تھے۔ ان میں سے کسی نے قبضے کیے، کسی نے ہسپتال بنائے اور غیر قانونی کام کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہباز گل نے لوٹ مار اور موبائل چوری جیسے اقدامات کیے اور گرفتاری کے بعد پارٹی کی خفیہ معلومات لیک کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ رہائی کے بعد ان افراد کو ڈیل کے تحت سہولت فراہم کی گئی اور پاکستان چھوڑنے تک آسانیاں دی گئیں۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ اس وقت یہ لوگ جو بیانیہ بنا رہے ہیں وہ صرف ڈالرز کمانے کا ذریعہ ہے، نہ یہ ان کا دین ہے اور نہ ہی ضمیر۔ ان کے مطابق ضمیر فروش لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ سچ بولیں گے یا غیرت کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانیے نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی انہوں نے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان