پشاور یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار، وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ انتظامی افسران کی جوائنٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر ذاکراللہ جان کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں یونیورسٹی کے ملازمین میں پائی جانے والی مایوسی اور اضطراب کا اظہار کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پشاور یونیورسٹی نے کہا ہے کہ یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے، صوبائی حکومت مالی اور انتظامی طور پر ناکام ہوچکی ہے لہٰذا وفاق کے حوالے کردیا جائے۔ پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ انتظامی افسران کی جوائنٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر ذاکراللہ جان کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں یونیورسٹی کے ملازمین میں پائی جانے والی مایوسی اور اضطراب کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا نے یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے میں مسلسل ناکامی پر شدید احتجاج کیا اور جامعیہ کے بڑھتے ہوئے مالی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی اور کہا گیا کہ صوبائی حکومت مالی اور انتظامی طور پر پشاور یونیورسٹی کے معاملات چلانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پشاور یونیورسٹی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یونیورسٹی اور خیبرپختونخوا کے عوام کے بہترین مفاد میں یہ فیصلہ کیا جائے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ اگر ملازمین کے جائز مطالبات بالخصوص تنخواہوں اور پنشن کا فوری اجرا کا مطالبہ بغیر کسی تاخیر کے پورا نہیں کیا گیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی پشاور یونیورسٹی یونیورسٹی کے کی جوائنٹ کیا گیا
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔