طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین مقرر
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں اہم تبدیلی سامنے آ گئی ہے، پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکا: پاکستان کے ہائی کمشنر کی بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طارق رحمان کی بطور چیئرمین تقرری کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کی شب پارٹی کے گلشن دفتر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اس فیصلے کی تصدیق کی۔
بی این پی کے چیئرمین کا عہدہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا۔ پارٹی آئین کے مطابق اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے امیر کی طارق رحمان سے ملاقات، بی این پی کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار
پارٹی ذرائع کے مطابق طارق رحمان نے سیاسی جدوجہد کا آغاز اپنی والدہ کے ساتھ جنرل ارشاد کے خلاف تحریک کے دوران کیا۔ وہ 1988 میں بی این پی میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئے اور 1991 کے انتخابات سے قبل بیگم خالدہ ضیا کے ہمراہ ملک بھر میں انتخابی مہم چلائی۔
2002 میں انہیں بی این پی کا سینیئر جوائنٹ سیکریٹری نامزد کیا گیا جبکہ 2009 میں وہ پارٹی کے سینیئر نائب چیئرمین منتخب ہوئے۔ 2018 میں بیگم خالدہ ضیا کی قید کے بعد طارق رحمان کو قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 2007 میں ون الیون دور کے دوران گرفتاری کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھے اور تقریباً 17 سال بعد 25 دسمبر 2025 کو وطن واپس آئے۔ اب ان کی بطور چیئرمین تقرری کے بعد بی این پی کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بی این پی خالدہ ضیا دیش نیشنلسٹ پارٹی طارق رحمان چیئرمین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بی این پی خالدہ ضیا دیش نیشنلسٹ پارٹی طارق رحمان چیئرمین
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔