اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معلوم ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متنازع عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کیلئے متعلقہ حکومتی حکام سے مدد طلب کی تھی۔ یہ ایک سرکاری مقدمہ تھا اور پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی بریت کیلئے حکومت سے رابطہ کیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق، عدت کیس میں بشریٰ بی بی کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، بیرسٹر سیف اور سینیٹر مشعال یوسف زئی دونوں فریقین کے درمیان پسِ پردہ ہونے والے رابطوں سے آگاہ ہیں۔ بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تبصرے سے انکار کر دیا۔ مشعال یوسف زئی نے بھی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدت کیس ’’انتہائی ناپسندیدہ ذوق‘‘ کا حامل تھا اور اس قدر کمزور تھا کہ طاقتور حلقوں کے اندر بھی اس پر اختلاف پایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا سطحی مقدمہ تھا کہ میں اس پر بات بھی نہیں کرنا چاہتی۔ پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسف زئی بشریٰ بی بی کی ترجمان بھی رہ چکی ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے دی نیوز کو یہ بھی بتایا کہ بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان یا پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی کی مخالف ہیں۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے مشعال یوسف زئی نے کہا کہ ایک بیانیہ جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا جس میں بشریٰ بی بی کو محاذ آرائی کی وجہ بنا کر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی سمجھتی ہیں کہ تمام تنازعات حتیٰ کہ جنگیں بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوتی ہیں۔ مشعال یوسف زئی کے مطابق، بشریٰ بی بی کی رائے ہے کہ عمران خان اور دوسری جانب کے اردگرد موجود بعض افراد کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تعلقات خراب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی سخت گیر موقف کی حامل نہیں، وہ مفاہمت اور مذاکرات کی مضبوط حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتیں جو ان کے کردار یا عمران خان پر اُن کے مبینہ اثر و رسوخ کے حوالے سے پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کر سکتا ہے۔

انصار عباسی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مشعال یوسف زئی پی ٹی ا ئی بی بی کی عدت کیس کہ بشری

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق