سال 2026 کی ٓپہلی قومی انسداد پولیو مہم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قومی ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے نئے سال کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنانا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ نئے سال کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم 2 فروری سےشروع ہوگی اور 8 فروری تک جاری رہے گی۔
قومی ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق انسدادِ پولیو کی یہ قومی مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت منعقد کی جائے گی، تاکہ سرحدی علاقوں میں وائرس کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق مہم کے دوران پاکستان بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر ہونے والی اس مہم میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز اپنی خدمات انجام دیں گے، جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گے۔
انسدادِ پولیو پروگرام کے ذمہ داران نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
قومی ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں پانچ مرتبہ قومی انسدادِ پولیو مہم چلائی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور پولیو کیسز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں سال کی پہلی مہم بھی پولیو کے مکمل خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیو مہم کے مطابق بچوں کو
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔