پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے 13ویں مشترکہ فوجی مشقوں Inspired Gambit-2026 کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ مشقیں 9 جنوری 2026 سے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں شروع کی گئی ہیں، جن میں دونوں ممالک کے منتخب فوجی دستے شریک ہیں۔ ان مشقوں کا انعقاد ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب خطے اور دنیا کو مختلف نوعیت کے سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور انسداد دہشت گردی کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ مشترکہ فوجی مشقیں دو ہفتوں پر محیط ہوں گی اور مکمل طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈومین میں منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان مشقوں میں پاکستان اور امریکا کے فوجی دستے جدید تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں، جن کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور مربوط کارروائیوں کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔

دونوں ممالک کے اہلکار عملی تربیت کے ذریعے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں، تاکہ مستقبل میں مشترکہ یا ہم آہنگ آپریشنز کے دوران بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

افتتاحی تقریب میں پاکستان اور امریکا کے اعلیٰ فوجی اور دفاعی حکام نے شرکت کی ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان مشقوں کا بنیادی مقصد انسداد دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملیوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے ضروری تکنیکوں اور طریقہ کار کو بہتر بنانا بھی ان مشقوں کا اہم ہدف ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کے دوران شہری علاقوں میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نشانہ بازی اور دیگر عملی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں افواج کے آپریشنل نظریات، پیشہ ورانہ تجربات اور بہترین طریقۂ کار کو سمجھنے اور اپنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

اس نوعیت کی مشقیں فوجی اہلکاروں کو پیچیدہ اور بدلتے ہوئے سیکورٹی ماحول میں کام کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار کرتی ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ Inspired Gambit-2026 جیسی مشترکہ فوجی مشقیں نہ صرف انسداد دہشت گردی کے میدان میں دونوں ممالک کے تعاون کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انسداد دہشت گردی کے مشترکہ فوجی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار