تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صدر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم اتنے سادہ بھی نہیں کہ جو راز ہے وہ آپ کو بتادیں، آپ سے ایک وعدہ ہے کہ پاکستان کی قیمت پر کبھی سودا نہیں کریں گے۔

لاہور پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے صدر تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ آئین کی بحالی کےلیے سندھ سمیت تمام صوبوں میں جائیں گے نوازشریف اتنے ہی محب وطن ہیں جتنا کوئی اور شخص ہم۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے لوگوں کے سامنے   بڑے بحران ہیں اس وقت پورے ملک میں دس بھی ایسے آدمی نہیں جو بحران کا حل نکال سکیں۔

آٹھ فروری کو سب نے گھروں سے باہر نکلنا ہے ہم کسی کو گالیاں دینے یا منت ترلا کرنے نہیں آئے، اجتماعی دانش کے ساتھ ملک کو بحران سے باہر نکالا جا سکتا ہے اس وقت بحران بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے جعلی طریقے سے کچھ لوگوں کو بڑا بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر چھوٹے صوبے سینیٹ میں ووٹ نہ ڈالتے تو چھبیس ویں و ستائیسویں آئینی ترمیم منظور نہیں ہو سکتی تھی سندھ سمیت تمام صوبوں میں آئین کی بحالی اور آزادیوں کے حصول کےلئے جائیں گے، نوازشریف اتنا ہی محب وطن ہے جتنا کوئی اور شخص۔

تحریک کے رہنما راجہ ناصر عباس نے کہاکہ پارلیمنٹ کو غیر موثر اور عدلیہ کو 26ویں ترمیم کے ذریعے بے اثر کردیا گیا ہے اس پر لوگ اپنے حقوق کےلیے خود کھڑے ہو گئے تو حالات بہت خراب ہو جائیں گے جبکہ مصطفی نوازکھوکھر کا کہنا تھاکہ موجودہ حالات سے نکلنے کیلئے صرف آئین پر عمل کرنا ہی واحد راستہ ہوگا

اس سے پہلے حقوق خلق پارٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل ہونے کااعلان کیا، ان کے سیکرٹری جنرل عمار علی جان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کےلیے پنجاب کے عوام کو منظم کریں گے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن