سرد موسم میں جسم کو گرم رکھنے والی دیسی غذائیں، ذائقہ بھی فائدہ بھی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
سردیوں کے موسم میں جب ٹھنڈی ہوائیں جسم پر اثر انداز ہونے لگتی ہیں تو خوراک کا درست انتخاب بے حد ضروری ہو جاتا ہے۔
مشرقی طب اور حکمت صدیوں سے ان غذاؤں کی اہمیت بیان کرتی آئی ہے جو نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ اندرونی حرارت بھی بڑھاتی ہیں۔ ایسی غذائیں خون کی گردش کو بہتر بنا کر سردی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
یہاں ہم کچھ ایسی دیسی غذاؤں کا تذکرہ کررہے ہیں جو سرد موسم میں آپ کو غذائیت اور صحت کے ساتھ جسم کو گرم رکھنے میں بھی معاون ہوں گی۔
گھی
گھی کو ہمیشہ سردیوں کی غذا کا بادشاہ سمجھا گیا ہے۔ اس میں پائی جانے والی مفید چکنائیاں جسم کو فوری توانائی دیتی ہیں اور اندر سے گرم رکھتی ہیں۔ روٹی، دال یا کھچڑی میں تھوڑا سا گھی شامل کرنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، جو سرد موسم میں عموماً سست پڑ جاتا ہے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ جب ہاضمہ درست ہو تو جسم قدرتی طور پر زیادہ دیر تک گرم رہتا ہے۔
اجوائن
اجوائن بھی سردیوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ معدے کو فعال بناتی ہے اور جسم کے اندرونی درجۂ حرارت کو برقرار رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے اجوائن والے پراٹھے یا اجوائن کا پانی سرد موسم میں گھریلو نسخوں کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جو بدہضمی اور ٹھنڈک سے بچاتے ہیں۔
تِل
تل کو گرم غذاؤں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تل کے لڈو، چکّی یا چٹنی سردیوں میں نہ صرف توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ جسم کی خشکی اور تھکن کو بھی دور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیسی روایات میں تل سے بنی اشیاء کو سرد موسم کی خاص خوراک سمجھا جاتا ہے۔
باجرہ
باجرے کی روٹی بھی سردیوں کی پہچان مانی جاتی ہے۔ چونکہ یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے، اس لیے جسم کو زیادہ توانائی خرچ کرنی پڑتی ہے، جس سے قدرتی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ باجرے کی روٹی پر گھی یا گڑ لگا کر کھانا سردی کے خلاف ایک مؤثر دیسی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
ادرک
ادرک ہر گھر کی لازمی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ چاہے چائے میں شامل کی جائے یا سالن میں، یہ خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی ٹھنڈک دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سردیوں میں ادرک کا استعمال جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔
مونگ کی دال
مونگ کی دال بظاہر ہلکی غذا ہے، لیکن جب اسے گھی اور گرم مصالحوں کے ساتھ پکایا جائے تو یہ جسم کو سکون اور حرارت فراہم کرتی ہے۔ مونگ دال کی کھچڑی یا سوپ سرد موسم میں ایک متوازن اور فائدہ مند انتخاب مانا جاتا ہے۔
یہ روایتی دیسی غذائیں نہ صرف ذائقے سے بھرپور ہیں بلکہ سردیوں کی شدت کم کرنے میں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ بزرگوں کی آزمودہ حکمت آج بھی کارآمد ہے، کیونکہ قدرتی غذائیں صحت کو دیرپا فائدہ پہنچاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔