کراچی: جعلی شیئر کوڈ ای ویزا پر بیرون ملک جانے والا مسافر ایف آئی اے نے آف لوڈ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کراچی ائیرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ایک مسافر کو جعلی شیئر کوڈ ای ویزا پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنا دیا۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، محمد عمران نامی مسافر کراچی سے برطانیہ کے لیے پرواز پی سی 131 سے ترکیہ جا رہا تھا، اور اس نے ترکیہ ای ویزا حاصل کرنے کے لیے برطانیہ کا ای ویزا شیئر کوڈ استعمال کیا۔ تاہم امیگریشن کلیئرنس کے دوران معلوم ہوا کہ پیش کیا گیا ای ویزا جعلی تھا۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے یوکے شیئر کوڈ جعلی نکاح نامے کی بنیاد پر حاصل کیا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے برآمد شواہد میں نکاح کی جعلی ایڈیٹ شدہ تصاویر بھی شامل تھیں اور تمام دستاویزات و ٹکٹس لاہور کے مختلف ایجنٹوں کے ذریعے تیار کروائی گئی تھیں۔ ملزم نے 70 لاکھ روپے کے عوض یہ دستاویزات بنوائی تھیں، جن میں سے 35 لاکھ روپے پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ اس کی شادی 2014 میں ہوئی اور اس کے چار بچے ہیں۔
ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے شیئر کوڈ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔