ٹی20 ورلڈ کپ 2026 اسکواڈ میں شامل نہ ہونے پر شبمن گل نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
بھارت کے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان شبمن گل نے پہلی بار کھل کر بات کی ہے کہ وہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے 15 رکنی اسکواڈ میں شامل نہیں کیے جانے پر مایوس ضرور ہیں لیکن سلیکٹرز کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق شبمن گل کو شارٹ فارم میں زیادہ جارحانہ اوپننگ آپشنز کو ترجیح دینے کی وجہ سے ٹی20 اسکواڈ سے خارج کیا گیا، جبکہ انہوں نے گزشتہ 15 ٹی20 میچوں میں مجموعی طور پر 291 رنز بنائے تھے، جس کی بنیاد پر سلیکٹرز نے انہیں اس فارمیٹ سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا۔
پریس کانفرنس میں شبمن گل نے کہا، “میں مانتا ہوں کہ اپنی زندگی میں جہاں ہونا چاہیے، میں وہاں ہوں اور جو کچھ میرے نصیب میں لکھا ہے، اسے کوئی مجھ سے نہیں چھین سکتا۔ ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں ملک کے لیے بہترین کارکردگی دکھائے، لیکن سلیکٹرز کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں اور ٹیم کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اب ان کی توجہ قومی ٹیم کے تین میچوں پر مشتمل نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز پر مرکوز ہوگی، جہاں تجربہ کار کھلاڑی ویرات کوہلی اور روہت شرما ان کی معاونت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شبمن گل
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔