Daily Pakistan:
2026-06-03@02:53:02 GMT

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے نئی سیاسی جماعت بنالی

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے نئی سیاسی جماعت بنالی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق سینیٹر  مشتاق احمد  خان  نے نئی سیاسی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ کی بنیاد  رکھ دی۔اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں   مشتاق احمد خان  نے بتایا کہ پاکستان رائٹس موومنٹ 1973 کے آئین کے مطابق پاکستان کی تشکیل نو  اور تعمیر نو کرے گی۔ 1973 کا دستور  ایک نعمت ہے، اس کو بنانے والے بانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ آئین پر عمل کر کے ہم پاکستان کو ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں۔مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ 1973 کے دستور نے اسلام کا مسئلہ حل کر دیا، اس دستور میں لکھا گیا کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ہے۔ آئین میں لکھا گیا ہےکہ سپریم قانون قرآن و سنت ہوگا، اس دستور میں وزیراعظم اور صدر کا مسلمان ہونا  اور اہم عہدوں پر آنے والےکا ختم نبوت کا حلف لینا لازم ہے۔

ریاستی اداروں کیخلاف تقریر کی اجازت نہیں ہوگی، پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی مشروط اجازت مل گئی

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آمریت نہ ہو،  جہاں ہائبرڈ ڈیموکریسی نہ ہو، ہم چاہتے ہیں پاکستان میں سچی جمہوریت ہو  اور  ووٹ کا تقدس ہو، پاکستان ایسا ہو جہاں بولنےکے اوپر تعزیرے نہ ہو، زبان بندی نہ ہو،پاکستان ایسا ہو جہاں مفت اور فوری انصاف ہو، پاکستان ایسا ہو جہاں اقلیتیں خوفزدہ نہ ہوں اور اپنے حقوق سے محروم نہ ہوں۔

مشتاق احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ  پاکستان ایسا ہو  جہاں جبری گمشدگی نہ ہو  اور ملٹری آپریشن نہ ہو، پاکستان ایسا ہو جہاں مسخ شدہ لاشیں نہ ملیں، پاکستان ایسا ہو جو فلسطین اورکشمیر کی آزادی کے لیے فرنٹ لائن کردار ادا کرے، پاکستان ایسا ہو جہاں ڈاکٹر عافیہ امریکا کی قید میں نہ ہوں، پاکستان ایک فلاحی اسلامی جمہوری ریاست ہو، حقوق مزاحمت اور اصلاحات کے نعرے کے ساتھ ہم اپنی سیاسی جماعت کے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔

دنیا کے مالیاتی ادارے پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں ، پاکستان کی معیشت محفوظ ہاتھوں میں ہے ، وفاقی وزیر عطا تارڑ

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستان ایسا ہو جہاں مشتاق احمد خان پاکستان ا

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم