رجب بٹ کی شادی خطرے میں، سوشل میڈیا پر اسکرین شاٹس کے ساتھ پیغام جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
تنازعات کی زد میں رہنے والے مشہور پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔
ذاتی زندگی، تنازعات اور بے باک بیانات کے باعث اکثر زیرِ بحث رہنے والے رجب بٹ حال ہی میں وکلا سے جھگڑے کے بعد سرخیوں میں آئے تھے۔
سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے باوجود وہ اپنے مداحوں کی بھرپور حمایت رکھتے ہیں اور یوٹیوب پر ان کے سبسکرائبرز کی تعداد 83 لاکھ سے زائد جبکہ انسٹاگرام پر 29 لاکھ فالوورز ہیں۔
حالیہ دنوں میں قانونی مسائل میں گھرے رجب بٹ کی ازدواجی زندگی بھی مبینہ طور پر مشکلات کا شکار ہے، کیونکہ ان کے سالے عون محمد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔
اس معاملے پر اب رجب بٹ نے خاموشی توڑتے ہوئے انسٹاگرام پر ایک سخت پیغام جاری کیا ہے۔
انہوں نے اپنی اہلیہ اور سالے کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس مزید ریکارڈنگز اور اسکرین شاٹس موجود ہیں اور وہ اب یہ سب برداشت نہیں کریں گے۔
رجب بٹ اور ایمان رجب کی ڈرامے میں انٹری؛ ناظرین حیران رہ گئے
رجب بٹ کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ، بہن، خاندان اور یہاں تک کہ کمسن بچے کو بھی بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ذاتی معلومات پھیلانا، ہمدردی حاصل کرنے کے لیے من گھڑت کہانیاں بنانا اور سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانا بند ہونا چاہیے۔
رجب بٹ نے واضح کیا کہ ان کا بیٹا ’کیوان‘ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر مزید بحث نہیں ہوگی۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ شادی کا مستقبل اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر ذاتی کردار کشی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔