سابق سینیٹر مشتاق احمد کا نئی سیاسی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ کے قیام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اس موقع پر مشتاق احمد نے کہا کہ ہماری پارٹی 1973 کے آئین کے اصولوں کی پابند ہوکر کام کرے گی۔ معاشرے میں عام آدمی اپنے حقوق سے محروم ہے، اسی لیے ہماری پارٹی برابری کی سطح پر سب کی خدمت کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد نے نئی سیاسی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ کے قیام کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق نئی سیاسی جماعت کے اعلان کی تقریب کے موقع پر مرکزی قیادت، کارکنان، رفقا اور سول سوسائٹی کے افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر مشتاق احمد نے کہا کہ ہماری پارٹی 1973 کے آئین کے اصولوں کی پابند ہوکر کام کرے گی۔ معاشرے میں عام آدمی اپنے حقوق سے محروم ہے، اسی لیے ہماری پارٹی برابری کی سطح پر سب کی خدمت کرے گی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان رائٹس موومنٹ کی باضابطہ تاسیس کی تقریب ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں مرکزی قیادت، کارکنان اور رفقا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی 1973 کے آئین کے مطابق چلائی جائے گی جو حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کرتا ہے اور اسلامی اصولوں کی ضمانت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان رائٹس موومنٹ کا مقصد چند طبقات کی اجارہ داری کا خاتمہ، سماجی و معاشی انصاف، فوری اور سستا انصاف، آزادیٔ اظہار، تعلیم و صحت کی فراہمی، غربت اور کرپشن کے خاتمے، ماورائے عدالت قتل اور ملٹری آپریشنز کے خاتمے اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ہے۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے موجودہ پارلیمانی نظام کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحافت اور اظہار پر پابندیاں ہیں۔ بےروزگاری، مہنگائی، غذائی عدم تحفظ، منشیات، ماحولیاتی آلودگی اور کرپشن سنگین مسائل بن چکے ہیں۔ انہوں نے دفاعی بجٹ، اشرافیہ کی اجارہ داری، آئی پی پیز کو ادائیگیوں، نوجوانوں کی بدحالی اور انسانی اسمگلنگ پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ ملٹری آپریشنز سے قبل عوام، اسمبلیوں اور علاقائی جرگوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افواج سیاسی سرگرمیوں سے اجتناب کریں، سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے اور ملک کو درست سمت دینے کے لیے باصلاحیت اور دیانتدار قیادت سامنے لائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان رائٹس موومنٹ نئی سیاسی جماعت ہماری پارٹی نے کہا کہ کرے گی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔