فرعون، نمرود اور رضا پہلوی کی طرح ٹرمپ کا بھی برا انجام ہوگا: ایرانی سپریم لیڈر
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ فرعون، نمرود اور شاہِ ایران رضا پہلوی کی طرح ٹرمپ کا بھی برا انجام ہوگا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ جو صدر پوری دنیا پر غرور سے فیصلے کرتا ہے، اسے تاریخ یاد رکھے گی۔
خامنہ ای نے فرعون، نمرود اور شاہِ ایران رضا پہلوی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ظالم اور متکبر حکمران اپنے عروج میں ہی زوال کا شکار ہوتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔
ایرانی رہنما نے امریکی اقدامات کو خطے میں مداخلت اور وسائل پر قبضے کی کوشش قرار دیا اور بتایا کہ ٹرمپ نے لاطینی امریکا کے ایک ملک کو اپنے اثر و رسوخ میں لے رکھا تھا، جس کی کارروائیاں براہِ راست تیل کے لیے کی گئیں۔
خامنہ ای نے 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران ایک ہزار سے زائد ایرانی شہری شہید ہوئے اور ٹرمپ نے خود ان حملوں کا حکم دیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ جو ایرانیوں کے قتل کا ذمہ دار ہے، وہ آج قوم کا حامی کیسے بن سکتا ہے؟
ایرانی سپریم کمانڈر نےمظاہرین کو فسادی قرار دیتے ہوئے جمعہ کےخطبے میں عوام سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا امریکی صدر کو خوش کرنے کیلئے فسادیوں نے اپنی ہی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، ایران تخریب کاروں کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے سیکڑوں ہزار قربانیوں کے بعد قائم ہوا ہے، دشمنی اور دباؤ کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔