Express News:
2026-07-24@06:50:46 GMT

ترقی یا تنزلی؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

انسان جب اس دنیا میں آیا تھا تب وہ بولنا نہیں جانتا تھا نہ اُس کا کوئی مسکن و مکان تھا وہ جنگلوں میں جنگلی جانوروں کے درمیان زندگی گزار رہا تھا، پاؤں کے نیچے زمین اور سر کے اوپر کھلا آسمان سب کچھ اُسی کا تھا، ہر نیا دن اُس کے لیے نئی زندگی کی مانند تھا، زمینی سرحدوں سے آزاد، روز خوراک کی تلاش میں وہ ایک جگہ سے دوسری اور دوسری سے تیسری تک رسائی حاصل کرتا رہتا تھا۔

اُس وقت انسان کے کندھوں پر اپنی ذات کے علاوہ دوسرے انسان کی ذمے داری نہیں تھی، اُس کے اندر کسی قسم کے ڈر نہ دیگر انسانوں کے لیے منفی جذبات و احساسات موجود تھے۔

وقت بدلنے اور زمینی و موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ انسان میں شعور اُجاگر ہوا اور وہ جنگلوں سے باہر آکر بستیاں اور علاقے تشکیل دینے لگا جنھوں نے آگے چل کر شہروں اور ملکوں کی شکل اختیارکی۔

جب تک وہ جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹا رہا تھا تب تک وہ وابستگی کے احساس سے بالکل ناآشنا تھا لیکن جیسے ہی اُس نے شکار کو چھوڑ کر اپنی خوراک کے لیے زراعت پر انحصار کرنا شروع کیا، اُسے دوسرے انسان کی ضرورت پڑنے لگی اور ہر اکیلا انسان گروہ کا حصہ بننے لگا۔

انسان کے پاؤں پر شکار نے جو پہیے لگا رکھے تھے، زراعت نے اُن پر بیڑیاں ڈال دیں اور اب وہ آزاد فضا میں اُڑنے کے بجائے ایک جگہ ٹھہرنے لگا اور در و دیوار سے وابستہ ہونے لگا۔

جائے سکونت اور مختلف گروہوں کا وجود میں آنا، انسان کو خاندانی نظام کی جانب لے گیا اور اُس کے کندھوں پر ذمے داریوں کا بوجھ بڑھنے لگا، پہلے جو مفت میں خوراک میسر آرہی تھی، اب اُس کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی تھی، محنت مزدوری یا اپنے پاس موجود کسی قیمتی شے کی صورت میں۔

انسان جب اکیلا تھا تب اُس کا کسی سے کوئی اختلاف تھا نہ جھگڑا لیکن گروہوں میں تقسیم ہونے اور حصولِ خوراک کے لیے مل کر محنت کرنے میں جہاں تصورِ زندگی بدلا وہیں ان گنت آپسی اختلافات نے بھی جنم لیا اور اُن اختلافات کو افہام و تفہیم سے سلجھانے کی غرض سے سربراہ کا منصب معاشرے کا حصہ بنا، ہرگروہ میں موجود افراد باہمی رضامندی سے اپنے میں سے سب سے قابل انسان کو سردار کے طور پر چننے لگے۔

سردار کا منصب اپنے تمام تر سردارانہ جاہ و جلال کے ساتھ معروضِ وجود میں آیا تھا۔ انسان کو جب اپنے ہی جیسے دیگر انسانوں پر حکمرانی کا موقع ملا تو وہ اپنے اختیارکے خمار میں وہ کچھ کرگزرا جس سے شیطان تک شرما گیا۔ اختیار درحقیقت طاقت کا پیش خیمہ ہے اور طاقت انسان سے اکثر ہی سنبھالے نہیں سنبھلتی ہے۔

حاکمِ وقت جب اپنی جائز حدود سے تجاوزکرکے اُنھیں عزت سے تخت پر بٹھانے والوں کا ہی استحصال کرنے لگے تو پھر اس دنیا نے بغاوت کا وہ دور بھی دیکھا جس میں ہر عروج کو زوال نصیب ہوا اور انسانوں کے درمیان فرق پیدا کرنے والی ہر لکیر مٹ گئی۔

ہر قسم کی تفریق کو ختم کرنے میں تعلیم نے اہم کردار ادا کیا، علم و دانش کے موتی جب معاشرے میں بکھرے تو انسان نے اپنی ذات پر زیادتی کرنے والے ہر در پر قفل لگایا ساتھ علم و تجربے کے میدان میں اپنی کامیابی کے ایسے جھنڈے گاڑے جن سے نہ صرف اُس دور کے انسانوں کو فائدہ حاصل ہوا بلکہ اُس کے بعد آنے والی نسلیں بھی اُن سے استفادہ حاصل کرتی رہیں۔

وقت کا پہیہ اس تیزی سے گھوما کہ جنگلوں، بیابانوں میں زندگی بسر کرنے والا انسان جدیدیت کی زندہ جاوید مثال بنے شہروں کے پختہ مکانوں و عمارتوں میں سائنسی ایجادات کے درمیان اپنی ذات کو آسانی در آسانی پہنچانے لگا۔

سائنس کی ارتقاء کے بعد دنیا یکسر تبدیل ہوگئی، ہر شے کو نئے معنی مل گئے، انسانی معاشروں کے مابین پہلے جو لڑائیاں زورِ بازو پر انحصارکرتی تھیں وہ سائنسی علم، تجربات و ایجادات اور تعلیم کے معیارکی مقابلے بازی کو بنیاد بنا کر ہونے لگیں۔

علم و عقل کے امتزاج نے جنگ کے ہتھیاروں کی ہیت بھی بدل کر رکھ دی، تلوارکی جگہ جب خطرناک کیمیکلز سے تیارکردہ بموں اورگولا بارود نے لی تو باشعور اور تعلیم یافتہ اقوام نے اپنے حصولِ مقاصد کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے انسانوں کا وہ حشر نشرکیا جو ناخواندگی کے اندھیرے میں ڈوبی ماضی کی تہذیبوں میں بھی ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔

ہر فائدہ پہنچانے والے شے اپنے وجود میں منفی اثرات بھی سموئے ہوئے ہوتی ہے، سائنس کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا اور رہی سہی کسر ٹیکنالوجی کی آمد نے پوری کردی۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کا ملاپ ہماری دنیا کو بہتر سے بہترین کی جانب لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہاں بھی انسان نے مثبت عوامل پر منفی عوامل کو ترجیح دی اور خود کو ٹیکنالوجی کے جہان کا خدا تصورکرتے ہوئے اپنا ہی متبادل تشکیل دے ڈالا جسے پہلے روبوٹ کہا گیا پھر اُس میں مزید جدیدیت پیدا کرکے ٹیکنالوجی کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بنا کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا لقب دے کر اُس کی وضع قطع بڑھائی گئی۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اے آئی ٹولز یا چیٹ بوٹز انسان کو مدد فراہم کرنے کی غرض سے وجود میں لائے گئے تھے مگر یہ مدد کم اور نقصان کا باعث زیادہ بن رہے ہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسان کی انٹیلیجنس کو بہت تیزی سے زنگ لگا رہا ہے، اُس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر رہا ہے اور اُس کو لوگوں کی بھیڑ بھاڑ سے دورکرکے تنہا در تنہا کر رہا ہے۔

اے آئی کی آمد کے بعد انسان علم اور ہر طرزکی معلومات کے حصول، اپنی زندگی کے اہم فیصلے لینے کے لیے رہنمائی یہاں تک کہ اپنا اکیلا پن دورکرنے کے لیے بھی اس پر بے انتہا انحصار کرنے لگ گیا ہے۔

یہ سب دنیا کے مستقبل کے حوالے سے کوئی اچھے اشارے نہیں ہیں بلکہ آیندہ آنے والے وقتوں کی بھیانک تصویر دکھلا رہے ہیں۔ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب انسان کو اپنی بقاء کی جنگ دیگر انسانوں سے نہیں بلکہ بے جان مگر اپنے اندر تباہی کا عنصر رکھنے والی مشینوں سے لڑنی پڑے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انسان کو کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ