گرین بیلٹ قبضہ مافیا آپس میں لڑ پڑے، بڑے جھگڑے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-11-4
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) گرین بیلٹ قبضہ خوروں گروپوں میں آئے روز لڑائی جھگڑے کسی بڑے تصادم کا خطرہ انتظامیہ کی پراسرار خاموشی تفصیلات کے مطابق میرپورخاص ٹاؤن خادم علی شاہ یوسی 4 اور تین سے متصل چاندنی چوک عید گاہ اور اسکے ساتھ موجود گرین بیلٹ پر قبضہ خوروں کے قبضے سے روزانہ کی بنیاد پر لڑائی جھگڑے معمول بنتے جارہے ہیں عید گاہ چاندنی چوک کے اطراف قبضہ خوروں کی جانب سے قبضے غنڈہ گردی عروج پر پہنچ چکی ہے زرائع کے مطابق سٹلائٹ ٹاؤن گرین بیلٹ سید علی نواز شاہ رہائش گاہ کے دونوں اطراف مختلف قبضہ خور گروپوں کی جانب سے بھاری رقم کے عوض پتھارے ٹھیلے اور کیبن لگانے کا سلسہ جاری ہے شہری حلقوں کا کہنا تھا کہ گرین بیلٹ پر آئے روز قبضہ خوروں کی جانب سے قبضہ کے چکر میں لڑائی جھگڑے روز کا معمول بن چکے ہیں قبضہ کرنے کے دوران قبضہ خوروں کی جانب سے دھونس دھمکی سے وہاں کے رہائشی خوف کی فضا پر رہنے پر مجبور ہیں جہاں قبضہ خور گروپ کھلے عام بدمعاشی اور اسلحہ کی نمائش کرکے خوف کی فضا قائم کر کے ہیں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود اینٹی انکروچمنٹ میونسپل کارپوریشن ضلع انتظامیہ کسی کے سر پر جون تک نہیں رینگ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب سے گرین بیلٹ
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔