عوامی ورکرز پارٹی کا وینز ویلا میں امریکی دراندازی کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-11-7
سکھر(نمائندہ جسارت )عوامی ورکرز پارٹی ) نے وینزویلا میں امریکی سامراجی فوجی قوتوں کی جانب سے کی گئی مکمل طور پر ناجائز، غیر قانونی اور بے رحم فوجی مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں امریکی کمانڈو یونٹ نے اغوا کر لیا ہے۔عوامی ورکرز پارٹی کے سیکریٹری جنرل بخشل تھلہو نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ایک خودمختار ملک کی حاکمیت کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی تعلقات کے تمام اصولوں کو پامال کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف مغربی نصف کرے (ویسٹرن ہیمسفیئر) بلکہ پوری دنیا عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی سامراج آج بھی عالمی امن، اقوامِ عالم اور کر? ارض کے ماحولیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وینزویلا 1990 کی دہائی کے اواخر سے سامراج کے خلاف ایک تاریخی چیلنج پیش کرتا آ رہا ہے، جب مرحوم ہوگو شاویز صدر منتخب ہوئے اور ملک کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا، جو دنیا کی چوتھی بڑی تیل پیدا کرنے والی صنعت ہے۔بیان میں کہا گیا کہ 2002ء کے بعد سے مسلسل امریکی صدور نے ہوگو شاویز اور بعد ازاں ان کے جانشین نکولس مادورو کے خلاف مختلف بغاوتی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کیں، جبکہ حالیہ حملہ وینزویلا پر سامراجی کنٹرول دوبارہ قائم کرنے کی ایک اور بزدلانہ کوشش ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے