امریکا عالمی غنڈہ اور دہشت گرد
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا اس وقت دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد، بدمعائش اور غنڈہ بنا ہوا ہے۔ جمہوریت کے لبادے میں چھپا سب سے بڑا ڈکٹیٹر جس میں فرعون کی تمام صفات موجود ہیں۔ امریکا کا جو جی چاہے وہ کر گزرتا ہے اور اس کوکوئی روکنے اور ٹوکنے والا بھی نہیں ہے۔ 2 مئی 2011 کو اسی امریکا نے پاکستان کی حدود اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور دندناتے ہوئے ایبٹ آباد میں اپنی فوجوں کو اُتارا اور عظیم عرب مجاہد اسامہ بن لادن کو گرفتار کرکے اسے شہید کیا اور اس کی لاش کو سمندر برد کردیا۔ امریکا کی اس رجیم چینج سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں ہے۔ یہ رجیم چینج ایک حقیقت ہے اور اس رجیم چینج کے قاعدے اور قانون ہر ملک کے لیے مختلف ہیں۔ جیسے کہیں صدام حسین اور مرسی جیسے مرد مجاہد کو پھانسی دی جاتی ہے اور کہیں قذافی مارا جاتا ہے۔ کہیں عدم اعتماد کر کر اپنا بندہ بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال 3 جنوری 2026 کو امریکی خصوصی ٹیم کی جانب سے وینزویلا میں صدارتی محل میں گھس کر بیڈ روم سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سلیافلورس کی گرفتاری ہے۔ امریکی فوجی صدارتی محل میں صدر کے بیڈ روم سے صدر اور ان کی اہلیہ کو گھسیٹتے ہوئے کمپاونڈ میں لائے اور پھر ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر سمندر میں منتظر بحری جہاز پر لے گئے اور بحری جہازمیں وینزویلا کے صدر کو آنکھوں پر پٹی باندھ کراور خاتون اول کو سیکورٹی حصار میں امریکالے جایا گیا جہاں اگلے روز نیویارک کی عدالت میں انہیں پیش کیا گیا۔ عدالت نے وینزویلا کے صدر مادورو پر منشیات دہشت گردی، کوکین کی سپلائی اور امریکا کے خلاف سازش جیسے جرائم عائد کیے۔ نکولس مادورو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا ہے اور میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں۔ ان کی اہلیہ نے بھی عدالت میں تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض سیاسی مقدمات نہیں ہیں۔ ان مقدمات کا مقصد وینزویلا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ امریکا کی جانب سے مادوروکی حکومت پر غیر منصفانہ انتخابات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بھی الزامات ہیں جس کی وجہ سے امریکا نے وینزویلا پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہوئی تھی۔
امریکا کے اس اقدام کو عالمی سطح پر وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور علاقائی اثرو رسوخ پر کنٹرول اور اسٹرٹیجک اقدام سمجھا جارہا ہے۔ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور نیویارک کی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے پیشی کے بعد امریکی صدر کا اہم بیان بھی سامنے آیا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا اب امریکا کو 3 کروڑو سے 5 کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرے گا اور امریکی آئل کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کریں گی۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں ایک فی صد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی معیار کا برنیٹ کروڑ کی قیمت کم ہوکر 60 ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.
اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں تاہم بدانتظامی اور کرپشن کے باعث اس کی پیداوار 25 سال قبل 35 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہوکر تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ تک ہے جو کہ عالمی پیداوار کا ایک فی صد سے بھی کم ہے۔ وینزویلا کی تیل کی صنعت کو ماضی کی سطح تک لانے کے لیے کم از کم 15سال اور تقریباً 185 ارب ڈالر کی سرمایہ درکار ہوگی۔ یہ صورتحال چین کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ وینزویلا 80 فی صد تیل چین کو برآمدات کرتا ہے۔ اگر امریکا تیل پر کنٹرول کرتا ہے تو چین کو مہنگے داموں تیل خریدنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ جس سے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کو اپنے قدرتی وسائل اور سماجی سرگرمیوں پر مکمل خودمختاری حاصل ہے۔ امریکا نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور امریکا کی اس کھلی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کا نوٹس نہ لیا گیا تو آئندہ پھر کسی اور ملک کی باری آسکتی ہے۔ دنیا اور اقوام عالم امریکا کی اس کھلی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا نوٹس لینا چاہیے ورنہ کوئی ملک محفوظ نہیں رہے سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر ان کی اہلیہ امریکی صدر امریکا کی تیل کی ہے اور اور اس کہا کہ کے لیے اور ان
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔