ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، امریکا مظاہرین کی مدد کیلئے تیار ہے، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں جاری مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کئی برسوں سے حکومتی ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے بعض شہروں میں مظاہرین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حکومتی رِٹ کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مزید پڑھیںایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، امریکا مظاہرین کی مدد کیلئے تیار ہے، صدر ٹرمپ
عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟
دوسری جانب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے تیرہویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پرتشدد واقعات میں اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تہران کے قریب ایک قصبے سے 100 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق ملک میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس بند ہے، جس کے باعث اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔