جمرود میں ٹریفک حادثہ میں دولہا سمیت 4 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: جمرود میں ٹریفک کے المناک حادثے میں دولہا سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کار اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں دولہے سمیت چار افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا، دولہا اپنے دوستوں کے ہمراہ سیلون سے واپس آ رہا تھا کہ حادثہ پیش آیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں منصور ولد عبدالقار، نعمان ولد مجیب، سہیل، ضراب ولد خوشدل شامل ہیں، جاں بحق افراد کی نعشیں قریبی ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔
رمضان المبارک کے دوران شاپنگ مالزاور ریسٹورنٹس کے نئے اوقات کار؟
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لئے ہیں اور حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔