اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ تشویشناک ہے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا غیر متنازع اور اٹوٹ علاقہ ہے، کوئی بیرونی ادارہ یا ریاست اس حقیقت کو بدلنے کا قانونی یا اخلاق حق نہیں رکھتی۔ جدہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی اقدام صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے، پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ انتہائی تشویشناک ہے، پاکستان اسرائیل کی غیرقانونی اور غیرحقیقی کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی اسرائیل کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت لازمی ہیں، کوئی بیرونی ادارہ یا ریاست اس حقیقت کو بدلنے کا قانونی یا اخلاقی حق نہیں رکھتی، ایسے کسی بھی بیان یا عمل کو قانونی یا سیاسی اثر حاصل نہیں ہوگا۔نائب وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدام ہارن آف افریقا اور بحیرہ احمر میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، پاکستان نے او آئی سی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے اقدام کو مشترکہ بیان میں مسترد کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے، اسرائیلی اقدام خطے میں سنگین اثرات پیدا کرسکتا ہے، صومالیہ کی ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔غزہ کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں ضروری ہیں، پاکستان او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ فلسطینی حق خودارادیت کے لیے تعاون کرے گا، کسی بھی قسم کی جبری بے دخلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ساتھ کھڑا ہے۔اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان او آئی سی سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا بین الاقوامی کہ اسرائیل او آئی سی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔