برطانیہ میں شدید سردی اور برف باری کی وارننگ، ہزاروں افراد بجلی سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانیہ میں شدید سردی، برف باری اور یخ بستہ ہواؤں کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر حصوں میں یلو وارننگ جاری کر دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ موسم خراب ہو سکتا ہے اور عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خراب موسمی حالات کے باعث ہزاروں افراد تاحال بجلی سے محروم ہیں جبکہ روزمرہ معمولات متاثر ہو رہے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ میں بھی آج کے لیے یلو وارننگ برقرار رکھی گئی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی 12 کاؤنٹیز میں 11 انچ تک برف باری کا امکان ہے، جس کے باعث سڑکوں پر پھسلن، ٹریفک میں خلل اور سفری مشکلات کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 15 جنوری کو پورے برطانیہ میں موسمِ سرما کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے جبکہ سب سے زیادہ برف باری وسطی اور شمالی اسکاٹ لینڈ میں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، محتاط ڈرائیونگ اور کمزور و بزرگ افراد کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔