کراچی میں ٹریفک مسائل کے حل کے لیے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کراچی:
نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک پِپری پر کام کا آغاز کر دیا۔
کراچی بندرگاہ پر بذریعہ ریل مال برداری کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے کنٹینروں کا رش معمول ہے اور ترسیل کے نظام میں سست روی معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی ڈال رہی ہے۔
ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک پِپری کی تعمیر ان مسائل کا دیرپا حل ہے۔
ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے شاندار تقریب کا انعقاد ہوا۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی اور ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان احمد بن سولیم مہمانِ خصوصی تھے۔
این ایل سی منصوبے کو 400 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری سے مختلف مراحل میں مکمل کرے گا۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ چار ماہ میں مکمل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔