پی ٹی آئی کے جلسے سے پہلے مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے سے پہلے مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔
پیپلز چورنگی سے مزارِ قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک اور خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک بند ہیں۔
اس کے علاوہ گرومندر سے نمائش سگنل تک جانے والی سڑک بھی بند کردی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورۂ سندھ کا آخری دن ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ کل وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کی واپسی ہے، سندھ حکومت آخری دن بدمزگی پیدا نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ جلسہ مقررہ وقت اور مقام پر قانون کے مطابق جمہوری انداز میں ہوگا۔ کراچی والوں سے اپیل کی کہ خان کے نمائندے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مایوس نہیں کرنا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔