صومالیہ کی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں، اسرائیلی وزیر کا صومالی لینڈ کا دورہ تشویشناک ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقاتیں کیں۔
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔
یہ اجلاس وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے خطے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین مضمرات پر غور کے لیے منعقد کیا گیا۔
اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنے اور اسرائیلی اہلکار کے صومالی لینڈ کے بلاجواز اور انتہائی اشتعال انگیز دورے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے ان اقدامات کو سیاسی جارحیت اور صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کیا اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
او آئی سی کی جانب سے مسئلۂ جموں و کشمیر کے حل کے لیے اصولی مؤقف اور مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے تنظیم پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائے۔
وزراء خارجہ کونسل کے اس غیر معمولی اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے متعدد رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے بھی ملاقاتیں کیں۔
اس غیر معمولی اجلاس کے انعقاد سے او آئی سی کے رکن ممالک کے اجتماعی عزم کا بھرپور اظہار ہوا ہے اور عالمی برادری کو ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی انتہائی اہمیت سے متعلق ایک واضح پیغام دیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی اس غیر معمولی اجلاس میں شرکت صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کی ایک اور عملی مثال ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر معمولی اجلاس صومالی لینڈ او آئی سی کے کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔