ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت پر اسرائیل میں ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت پر اسرائیل میں ہائی الرٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 January, 2026 سب نیوز
ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا مداخلت کی دھمکیوں اور ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کرنے کے بعد اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ بات کی وضاحت نہیں ہے کہ ہائی الرٹ کی عملی شکل کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جس میں ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت پر بات چیت کی گئی۔
ایک امریکی عہدیدار نے دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کی تصدیق کی تھی تاہم زیرِ بحث آنے والے موضوعات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔
اس سے پہلے امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران میں اگر لوگوں کو قتل کیاگیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے واضح کیاکہ مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی صورتِ حال پر نظر ہے، ایسا لگتا ہے کہ ایران کے کچھ شہروں پر لوگ قابض ہیں۔ ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ بُرا سلوک کیا اور آج انہیں اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا نے حملہ کیا تو جوابی حملے میں اسرائیل اور امریکی اڈے نشانہ بنیں گے: ایران کی ٹرمپ کو وارننگ امریکا نے حملہ کیا تو جوابی حملے میں اسرائیل اور امریکی اڈے نشانہ بنیں گے: ایران کی ٹرمپ کو وارننگ عمران خان سانحہ 9 مئی کے براہ راست ذمہ دار، سزا بھی ہوگی: اکبر ایس بابر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا اسرائیل نے صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا: اسحاق ڈار ایس ای سی پی کی اصلاحات سے کمپنی رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ، شفافیت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال مجاہد گروپ آف انڈسٹریز نے ملک میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے امپورٹر کا ایوارڈ اپنے نام کر لیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت ہائی الرٹ کہ ایران
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف