بی جے پی ووٹوں کو کاٹنے اور اپنا ووٹ بڑھانے کی سازش کررہی ہے، اکھیلیش یادو
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
سماج وادی پارٹی کے صدر نے کہا کہ ریاستی الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ اور مودی الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ میں کروڑوں ووٹوں کا فرق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی مسودہ فہرست کی سالمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پی ڈی اے برادری کے ووٹوں کو کاٹنے اور اپنا ووٹ بڑھانے کی سازش کر رہی ہے۔ اکھیلیش یادو نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی حکومت ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ بی جے پی ممبران اپنی مرضی کے مطابق ووٹر لسٹ بنانا چاہتے ہیں، بی جے پی حکومت پی ڈی اے برادری کے ووٹ کاٹ کر اپنے ووٹ بڑھانے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے اپنے تمام بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) اور بوتھ گارڈ کو ایک فارمیٹ فراہم کیا ہے، وہ جعلی یا ڈپلیکیٹ ووٹر بنانے والے کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کا مکمل فارمیٹ تیار کر لیا گیا ہے، بس نام درج کریں اور ایف آئی آر درج کریں۔ اکھیلیش یادو نے کہا کہ جب ایس آئی آر کا اتنا بڑا عمل جاری ہے تو ووٹر لسٹ میں صرف حقیقی ووٹروں کے نام ہی ہونے چاہئیں، صرف ان کے ووٹ ڈالے جائیں، لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ اور مودی الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ میں کروڑوں ووٹوں کا فرق ہے جبکہ دونوں ووٹر لسٹ تیار کرنے والا بی ایل او اور افسر ایک ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ووٹر ایک جیسے ہیں، افسر اور بی ایل او ایک ہی ہیں تو ریاستی اور مرکزی الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹوں میں اتنا فرق کیوں ہے، کوتاہیاں کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا "الیکشن کمیشن بتائے کہ کون سی فہرست درست ہے، امید ہے الیکشن کمیشن ان تمام سوالوں کا جواب دے گا"۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ ووٹر لسٹ میں انہوں نے کہا نے کہا کہ بی جے پی
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب