کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ کیا کرنا ہے، کیوبن صدر کا ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کیوبا کے حوالے سے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کوئی بھی ملک یا رہنما انہیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔
اپنے ایک بیان میں صدر کینیل نے کہاکہ کیوبا جارحیت نہیں کرتا، بلکہ پچھلے 66 سالوں سے امریکی حملوں اور پابندیوں کا شکار ہے۔
مزید پڑھیں: جلد معاہدہ نہ کیا تو سنگین نتائج ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کیوبا کو انتباہ
ان کا کہنا تھا کہ کیوبا دھمکیاں نہیں دیتا، تاہم وطن کے دفاع کے لیے خود کو ہر وقت تیار رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی جانوں کو محض کاروباری نقطہ نظر سے دیکھنے والوں کے لیے کیوبا پر تنقید کرنا غیر اخلاقی ہے۔
صدر کینیل نے کہاکہ جو لوگ کیوبا کی اقتصادی مشکلات کو انقلاب پر ڈال دیتے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے، کیونکہ یہ مشکلات دراصل 60 سالہ امریکی پابندیوں کا نتیجہ ہیں، جنہیں امریکا مزید سخت کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
اسی حوالے سے کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے کہا کہ کیوبا نے کبھی بھی کسی ملک کو فراہم کی گئی سیکیورٹی خدمات کے بدلے معاوضہ وصول نہیں کیا، اور امریکی بلیک میلنگ یا فوجی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا ہر ملک سے ایندھن درآمد کرنے کا حق رکھتا ہے اور امریکا کا رویہ عالمی امن کے لیے خطرناک اور غیر قانونی ہے۔
مزید پڑھیں: روس، چین، ایران اور کیوبا کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرو، امریکا کا وینزویلا سے سخت مطالبہ
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ وینزویلا سے جانے والی تیل اور مالی امداد اب کیوبا کو نہیں دی جائے گی، اور اگر کیوبا نے جلد ہی امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت ردعمل کیوبن صدر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیوبن صدر وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ کیوبا کے کہ کیوبا کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔