مودی! کشمیر آتش فشاں ہے ،بہت جلد پھٹنے والا ہے، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-08-5
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی! کشمیر آتش فشاں پہاڑ ہے، یاد رکھو تم ڈرپوک ہو بے غیرت ہو، بہت جلد آتش فشاں پھٹنے والا ہے ، جلد بڑا پیغام آنے والا ہے تمہاری فلموں کا، تم نے معرکہ حق میں ابھی ٹریلر ہی دیکھا ہے ،بہت جلد مقبوضہ کشمیر میں معرکہ حق کی مکمل فلم آنے والی ہے۔ راولپنڈی کے علاقے پرانا قلعہ اور بازار کلاں کے دورے کے موقع پر شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غازی تنہا مودی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، مشعال ملک کا کہنا تھا کہ امید ہے جو تحریک راولپنڈی سے چلے گی نتیجہ دے گی، ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں، مودی کو پیغام ہے یاسین ملک حق کی جنگ لڑ رہا ہے، زندہ رہا تو غازی اور مار دیا گیا تو شہید کہلائے گا، اس پر فخر ہوگا۔ ہمیں موت کا کوئی ڈر نہیں ، 28 جنوری کو پھانسی کیس کی سماعت ہے ،ہم پورے پاکستان میں عوامی رابطہ مہم چلانے جا رہے ہیں، میں عوام میں ڈائرکٹ آئی ہوں کیوں کہ مجھے مودی دہشت گرد کا خود نہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم اور پاکستانی قوم نے ڈر کے بت توڑ ڈالے، اب ہندوتوا کے بت توڑنے نکلے ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔