موٹر وے پر ٹرک کے پچھلے ٹائروں میں اچانک آگ لگ گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک :لاہور سے اسلام آباد جانے والی موٹروے ایم-2 ساؤتھ پر خانقاہ ڈوگراں کے قریب ایک ٹرک کے پچھلے ٹائروں میں آگ لگ گئی، موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث کسی بڑے حادثے سے بچاؤ ممکن ہو گیا۔
ترجمان موٹروے پولیس سنٹرل ریجن سید عمران احمد کے مطابق موٹروے پولیس کو اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور پولیس اہلکار بروقت موقع پر پہنچ گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی آمد سے قبل ہی موٹروے پولیس نے آگ پر قابو پا لیا۔
بھارت کا بڑا کرکٹر زخمی ، نیوزی لینڈ سیریز سے آؤٹ،متبادل کون؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹرک کے پہیے جام ہونے کے باعث ٹائروں میں آگ لگی جس سے ٹرک جزوی طور پر متاثر ہوا خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ترجمان کے مطابق موٹروے پولیس کی فوری اور مؤثر کارروائی کے باعث قیمتی جان و مال دونوں محفوظ رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔