بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن میں آن لائن ٹیسٹ اور تقرری لیٹر کا اجرا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی روز میں آن لائن ٹیسٹ اور ایک گھنٹے کے اندر تقرری لیٹر کا اجرا کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ خزانہ میں بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار 111 سرکاری آسامیوں پر سو فیصد میرٹ اور پیپر لیس بنیادوں پر آن لائن بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ امیدواروں سے آن لائن ٹیسٹ لیا جائے گا، قابلیت کی شفاف جانچ ہوگی اور کامیاب امیدواروں کو ایک گھنٹے کے اندر تقرری لیٹر جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اصلاحاتی نظام کا آغاز محکمہ خزانہ سے کیا جا رہا ہے جو مرحلہ وار صوبے کی تمام سرکاری نوکریوں پر نافذ ہوگا۔ بلوچستان کے عوام سے پہلے ہی دن دوٹوک وعدہ کیا تھا کہ نہ نوکریاں بیچی جائیں گی اور نہ ہی کرپشن یا اقرباء پروری برداشت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسی وعدے کی تکمیل کے لیے بلوچستان میں شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ میرٹ، شفافیت اور عوام سے کیا گیا وعدہ ہی ہماری حکمرانی کی بنیاد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آن لائن
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔