وفاقی حکومت نے کراچی، لاہور ائیرپورٹس پر امیگریشن اور دیگر مسائل کا نوٹس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے جناح ٹرمینل ائیرپورٹ اور علامہ اقبال ائیرپورٹ پر مسافروں کو امیگریشن اور دیگر عدم سہولیات کا نوٹس لے لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دونوں ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات دینے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ کراچی اور لاہور ائیرپورٹس انتظامیہ کو نئے احکامات جاری کردیے گئے۔
ائیرپورٹ پر مسافروں کی امیگریشن کا وقت کم کرنے کے لیے کاؤنٹرز میں اضافے کی بھی ہدایت کردی گئی ہے۔ ائیرپورٹس پر رش کے اوقات میں مسافروں کو ایئرپورٹ ٹرمینل میں داخل ہونے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
داخلی دروازے کھولنے اور مسافروں کی سہولت کے لیے مزید سیکیورٹی اسکیننگ مشینیں نصب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
بین الاقوامی مسافروں کی آمد و روانگی میں گھنٹوں تاخیر کی شکایات وزارت کو موصول ہوئی تھیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ مسافروں کے لیے سہولیات میں بہتری بیرون ملک سے آئے ہم وطنوں کو محسوس ہونی چاہیے۔
دونوں بین الاقوامی ائیرپورٹس پر مسافروں کی طرف سے مزید شکایات پر سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر مسافروں مسافروں کی گئی ہے کے لیے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔